المستفی حافظ محمد صفی الدین نظامی رضوی
الجواب بعون الملک الوہاب
صورتِ مسئولہ میں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ محض مسائل معلوم ہونے کے بعد سابقہ نمازوں کے متعلق شک و شبہ میں مبتلا ہوجانا قضا کو لازم نہیں کرتا بلکہ قضا اسی وقت لازم ہوگی جب یقین یا غالب گمان کے ساتھ معلوم ہو کہ نماز ایسی خرابی کے ساتھ ادا ہوئی تھی جس کے سبب وہ شرعاً فاسد ہوگئی تھی
لہٰذا اگر کسی شخص نے واقعی ایسی غلطی کی جو فقہائے کرام کے نزدیک مفسدِ نماز ہے اور اسے یقین یا غالب گمان ہے کہ اس کی نماز درست طور پر ادا نہیں ہوئی تھی تو اس پر ان نمازوں کی قضا لازم ہوگی کیونکہ فاسد نماز فرض کو ساقط نہیں کرتی
البتہ صرف یہ خیال آنا کہ شاید میری نمازیں درست نہ ہوئی ہوں یا مسائل سن کر سابقہ نمازوں کے بارے میں وسوسہ پیدا ہونا اس بنیاد پر قضا واجب نہیں ہوتی کیونکہ شریعتِ مطہرہ میں یقین شک سے زائل نہیں ہوتا
نیز امام سے پہلے رکوع یا سجدہ کرلینے کا مسئلہ بھی تفصیل طلب ہے ہر صورت میں نماز فاسد نہیں ہوتی بلکہ اس کی متعدد صورتیں فقہ کی کتابوں میں مذکور ہیں اس لیے کسی ایک مسئلہ کو سن کر اپنی تمام سابقہ نمازوں کے فساد کا حکم لگانا درست نہیں
خلاصۂ حکم یہ ہے کہ (1) جن نمازوں کے فاسد ہونے کا یقین یا غالب گمان ہو ان کی قضا لازم ہے (2) محض شک وہم اور وسوسہ کی بنا پر قضا لازم نہیں (3) اگر کسی مخصوص غلطی کے متعلق شبہ ہو تو اس کی تفصیل اہلِ فتویٰ کے سامنے پیش کرکے حکم معلوم کیا جائے
فتاویٰ عالمگیری میں ہے إذا علم فساد صلاته لزمه الإعادة ترجمہ: جب کسی کو اپنی نماز کے فاسد ہونے کا علم ہوجائے تو اس پر اس نماز کا اعادہ (قضا) لازم ہے (الفتاویٰ الہندیۃ کتاب الصلاۃ 1/79)
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبہ::: العبد خاکسار ناچیز محمد شفیق رضا رضوی خطیب و امام سنّی مسجد حضرت منصور شاہ رحمت اللہ علیہ بس اسٹاپ کشنپور فتحپور الھند
✔️✔️✔️ الجواب صحیح والمجیب النجیح خلیفہ حضور تاج الشریعہ و نواسہ امام علم فن مفتی خواجہ صبر نواز قادری رضوی بانی دارالعلوم فیضان امام علم فن للبنات
