(سوال) میرا ایک اہم سوال ہے براہِ کرم اس بارے میں رہنمائی فرمائیں: ہم درسِ نظامی کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں ہر سال اس میں کچھ طلبہ نمایاں پوزیشنیں (رینک) حاصل کرتے ہیں جب ہم پڑھتے ہیں تو اپنی نیت پر غور کرتے ہیں کہ ہماری نیت کیا ہے؟ کیا واقعی رضاۓ الٰہی مقصود ہے یا دل میں رینک حاصل کرنے کی خواہش ہے؟ زبان سے تو ہم یہی کہتے اور نیت کرتے ہیں کہ ہم الله تعالیٰ کی رضا کے لیے پڑھ رہے ہیں لیکن دل کبھی کبھی ڈگمگا جاتا ہے اور یہ سمجھ نہیں آتا کہ اصل نیت کیا ہے ایسی کیفیت میں ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ اپنی نیت کو خالص بنانے کا کیا طریقہ ہے؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ رینک حاصل کرنے کے جذبے کی وجہ سے کبھی کبھی اپنے ساتھ پڑھنے والے طلبہ کے بارے میں دل میں مقابلے کا خیال آتا ہے بظاہر تو ہم کسی سے حسد نہیں کرتے لیکن دل کے اندر ایک کیفیت محسوس ہوتی ہے جو حسد کی طرف لے جاتی ہے۔ اس بارے میں شریعت اور بزرگانِ دین کی روشنی میں کیا رہنمائی ہے؟ ہمیں اپنے دل کی اصلاح اور صحیح نیت کے لیے کیا کرنا چاہیے؟
(جواب) علمِ دین حاصل کرنے والے طالبِ علم کے لیے اپنی نیت کے بارے میں فکر مند رہنا خود ایک اچھی علامت ہے کیونکہ جس شخص کو اپنی نیت کے بگڑنے کا خوف ہی نہ ہو اس کے مقابلے میں وہ شخص بہتر حال میں ہے جو بار بار اپنے دل کا محاسبہ کرتا ہےاگر آپ کو یہ اندیشہ رہتا ہے کہ کہیں میری طلبِ علم میں ریا شہرت یا محض رینک حاصل کرنے کی خواہش شامل نہ ہوجائے تو یہ خوف ان شاء الله اخلاص کی علامتوں میں سے ہے کیونکہ مخلص لوگ بھی اپنی نیت کے بارے میں فکر مند رہتے تھے یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ رینک حاصل کرنے کی خواہش فی نفسہ ناجائز نہیں اگر ایک طالبِ علم اس نیت سے زیادہ محنت کرتا یا خواہش رکھتا ہے کہ وہ سب سے بہتر استعداد حاصل کرےاساتذہ کا اعتماد حاصل کرے اور علم میں ممتاز ہو تو یہ مذموم نیت نہیں ہے کیونکہ ان باتوں سے الله تعالى کی رضا کے لیے حصول علم کی نیت قائم رہتی پے کیا کسی جائز دنیاوی مقصد کے لیے نماز پڑھنا رضائے الہی چاہنے کے خلاف ہوسکتا ہے؟ ہاں خرابی اس وقت ضرور پیدا ہوتی ہے جب مقصود الله تعالی کی رضا کے بجائے محض لوگوں کی تعریف شہرت برتری جتانا یا دوسروں کو کمتر ثابت کرنا بن جائے اور یہ ایسے امور ہیں جو رضائے الہی کی چاہ کے ساتھ جمع نہیں ہوسکتے لہٰذا اصل توجہ اس بات پر ہونی چاہیے کہ دل کا بنیادی رخ الله تعالیٰ کی رضا کی طرف رہے جبکہ رینک اور کامیابی کو ایک ضمنی اور ثانوی چیز سمجھا جائےاپنے ساتھی طلبہ سے آگے بڑھنے کی خواہش دو طرح کی ہے ایک یہ کہ انسان چاہے کہ مجھے بھی اس جیسی یا ان سے زیادہ علمی ترقی حاصل ہو جبکہ ان کی نعمت باقی رہے یہ حسد نہیں بلکہ قابلِ تعریف غبطہ ہے رسول الله ﷺ نے فرمایا لَا حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَيْنِ: رَجُلٌ آتَاهُ اللهُ مَالًا فَسَلَّطَهُ عَلَى هَلَكَتِهِ فِي الْحَقِّ وَرَجُلٌ آتَاهُ اللهُ حِكْمَةً، فَهُوَ يَقْضِي بِهَا وَيُعَلِّمُهَا النَّاسَ (صحیح البخاری، م: ٣٦٥١) یعنی رشک صرف دو آدمیوں پر ہوسکتا ہے ایک وہ شخص جسے الله تعالی نے مال عطا فرمایا اور وہ اسے حق کے راستے میں خرچ کرتا ہے اور دوسرا وہ شخص جسے الله تعالیٰ نے علم وحکمت عطا فرمائی، پھر وہ اس کے مطابق فیصلے کرتا ہے اور لوگوں کو اس کی تعلیم دیتا ہے اور دوسری صورت یہ ہے کہ انسان دل میں یہ چاہے کہ دوسرے کی فضیلت ختم ہوجائے یا اس کی کامیابی دیکھ کر دل تنگ ہو یہ مذموم حسد ہے جس سے بچنا ضروری ہے آپ کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ حسد سے بچنا چاہتے ہیں اور اسی وجہ سے اپنے دل کی کیفیت کے بارے میں سوال کر رہے ہیں لہٰذا محض ایسے وسوسوں یا ابتدائی احساسات کی وجہ سے پریشان نہ ہوں جب بھی دل میں مقابلے یا حسد کی کیفیت محسوس ہو تو فوراً اپنے ساتھی طالبِ علم کے لیے دعا کریں، اس کی کامیابی پر الله تعالی کا شکر ادا کریں اور اپنے نفس کو یہ سمجھائیں کہ الله تعالیٰ کی رحمت اور عطا کسی ایک شخص تک محدود نہیں دوسرے کی کامیابی آپ کے لیے نقصان نہیں بلکہ ترغیب کا ذریعہ ہے ابن عبد البر فرماتے ہیں: قوله ولا تنافسوا فالمراد به التنافس في الدنيا ومعناه طلب الظهور فيها على أصحابها والتكبر عليهم ومنافستهم في رياستهم والبغي عليهم وحسدهم على ما آتاهم الله منها وأما التنافس والحسد على الخير وطرق البر فليس من هذا في شيء (التمهيد ٢٢/١٨) یعنی حدیث کے الفاظ ولا تنافسوا (آپس میں دنیا کے لیے مقابلہ بازی نہ کرو) سے مراد دنیا کے معاملات میں ایک دوسرے سے بڑھنے کی کوشش کرنا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی دنیا میں اپنے ہم مرتبہ لوگوں پر برتری حاصل کرنا چاہے ان پر تکبر کرے ان کی سرداری منصب اور قیادت میں ان سے مقابلہ کرے ان پر زیادتی کرے اور الله تعالیٰ کی عطا کردہ دنیاوی نعمتوں پر ان سے حسد کرے البتہ نیکی بھلائی اور تقویٰ کےکاموں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرنا نیز خیر و بر کے راستوں میں رشک کرنا اس ممانعت میں ہرگز داخل نہیں ہے اور ابو العباس قرطبی حدیث کے اس جز کی شرح میں فرماتے ہیں وأما التنافس في الخير فمأمور به كما قال تعالى ﴿وَفِي ذَلِكَ فَليَتَنَافَسِ المُتَنَافِسُونَ﴾ أي في الجنة وثوابها (المفهم ٥٣٥/٦) والله تعالى أعلم بالصواب
⚡⚡⚡⚡
كتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی ممبئی مہاراشٹر انڈیا
