(سوال) کیا کوئی شخص اپنے لیے اس طرح دعا کر سکتا ہے کہ یا الله جو میرے حق میں بہتر ہو وہ مجھے عطا فرما دے اور جو میرے حق میں بہتر نہ ہو مجھے اس سے دور رکھ یا کسی دوسرے کے لیے یہ دعا کرے کہ یا الله اگر یہ چیز فلاں کے حق میں بہتر ہے تو اسے عطا فرما دے اور اگر بہتر نہیں تو اسے اس سے دور رکھ؟ نیز دعا کے چند آداب بھی بیان فرما دیں۔
(جواب) جی ہاں اس طرح دعا کرنا جائز بلکہ مستحسن ہے کہ بندہ اپنے انجام اور مصلحتوں کو مکمل طور پر نہیں جانتا جبکہ الله تعالی ہر چیز کے ظاہر وباطن اور انجام کو جانتا ہے استخارہ کی مشہور دعا میں بھی یہی مضمون موجود ہے کہ بندہ الله تعالیٰ سے عرض کرتا ہے کہ اگر یہ کام میرے دین دنیا اور آخرت کے اعتبار سے بہتر ہے تو اسے میرے لیے مقدر فرما دے اور اگر اس میں میرے لیے شر ہے تو اسے مجھ سے اور مجھے اس سے پھیر دے (صحیح البخاری م ٦٣٨٢) مکمل دعائے استخارہ جو حضور ﷺ نے تعلیم فرمائی ہے. اس طرح ہے اللهم إني أستخيرك بعلمك، وأستقدرك بقدرتك وأسألك من فضلك العظيم فإنك تقدر ولا أقدر وتعلم ولا أعلم وأنت علام الغيوب اللهم إن كنت تعلم أن هذا الأمر خير لي في ديني ومعاشي وعاقبة أمري أو قال في عاجل أمري وآجله فاقدره لي وإن كنت تعلم أن هذا الأمر شر لي في ديني ومعاشي وعاقبة أمري، أو قال في عاجل أمري وآجله، فاصرفه عني واصرفني عنه، واقدر لي الخير حيث كان ثم رضني به، ويسمي حاجته دعا کے چند آداب یہ ہیں ١ دعا سے پہلے اور بعد میں الله تعالیٰ کی حمد وثنا اور نبی کریم ﷺ پر درود شریف پڑھنا۔ ٢۔ اخلاص اور حضورِ قلب کے ساتھ دعا کرنا ٣ قبلہ رخ ہونا اور ممکن ہو تو ہاتھ اٹھانا۔ ٤۔ گناہوں سے توبہ اور حلال رزق کا اہتمام کرنا ٥ دعا میں عاجزی انکساری اور امید کا اظہار کرنا ٦ دعا کی قبولیت میں جلد بازی نہ کرنا۔ ٧ الله تعالیٰ سے یقینِ کامل کے ساتھ مانگنا فرمایا ﷺ ادعوا الله وأنتم موقنون بالإجابة واعلموا أن الله لا يستجيب دعاء من قلب غافل لاه یعنی الله سے دعا کرو اس حال میں کہ تمہیں اس کی قبولیت کا یقین ہو اور جان لو کہ الله ایسے دل کی دعا قبول نہیں فرماتا جو غافل اور بے توجہ ہو (سنن الترمذی م: ٣٤٧٩) الله تعالی ہمیں آدابِ دعا کی رعایت کے ساتھ کثرت سے دعا کرنے اور اپنی بارگاہ میں مقبول ہونے کی توفیق عطا فرمائے والله تعالى أعلم بالصواب
⚡⚡⚡⚡
كتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی ممبئی مہاراشٹر انڈیا
