(سوال) ایک نوجوان جس کی عمر تقریباً ٢١ سال ہے، شادی کی شدید خواہش رکھتا ہے، مگر اس کے پاس مستقل کاروبار یا ذریعۂ معاش نہیں ہے اور وہ گھر والوں سے بھی کھل کر اس بارے میں بات نہیں کر پا رہا وہ نماز اور روزے کا پابند ہے لیکن پھر بھی شہوانی خیالات کی وجہ سے بعض اوقات مشتِ زنی میں مبتلا ہو جاتا ہے توبہ کرتا ہے کچھ عرصہ بچا رہتا ہے پھر دوبارہ اسی مسئلے میں گرفتار ہو جاتا ہے اس کے لیے کیا دعا اور کیا شرعی رہنمائی ہے؟
(جواب) نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: "اے نوجوانوں کے گروہ تم میں سے جو نکاح کی استطاعت رکھتا ہو وہ نکاح کرے، اور جو استطاعت نہ رکھتا ہو وہ روزے رکھے کیونکہ روزہ اس کے لیے شہوت کو توڑنے والا ہے (صحیح البخاری م: ٥٠٦٦) اگر کبھی گناہ سرزد ہو جائے تو فوراً سچی توبہ کرے مایوس نہ ہو اور نہ یہ سمجھے کہ اب اصلاح ممکن نہیں شیطان کی بڑی چال یہ ہے کہ انسان کو گناہ کے بعد ناامیدی میں مبتلا کر دے۔ اس کے لیے یہ دعا بھی مفید ہے اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْهُدَى وَالتُّقَى وَالْعَفَافَ وَالْغِنَى
اے الله میں تجھ سے ہدایت تقویٰ پاک دامنی اور بے نیازی کا سوال کرتا ہوں (صحیح مسلم، م: ٢٧٢١) نیز کثرت سے یہ دعا پڑھے اللَّهُمَّ حَصِّنْ فَرْجِي، وَطَهِّرْ قَلْبِي، وَمَحِّصْ ذُنُوبِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي» اور اگر ممکن ہو تو مناسب انداز میں اپنے والدین یا کسی سمجھدار سرپرست سے نکاح کی خواہش کا ذکر بھی کرے کیونکہ بہت سے اوقات نوجوان محض جھجک کی وجہ سے بات نہیں کرتے حالانکہ گھر والے تعاون کے لیے تیار ہوتے ہیں الله تعالیٰ اس نوجوان کو عفت و پاک دامنی حلال روزی اور جلد نیک و صالح زوجہ عطا فرمائے اور اسے ہر گناہ سے محفوظ رکھے والله تعالى أعلم بالصواب
⚡⚡⚡⚡
كتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی
