کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ کیا کسی بچّے کا دو بار عقیقہ کرنا کیسا ہے
بچّے کے ننیہال والوں نے کردیا اب اُنکے والد کرنا چاہتے ہیں کیا صورتِ حال ہوگی
جواب عنایت فرمائیں
سائل محمد ارباب عالم الھند
الجواب بعون الملک الوہاب
عقیقہ بچّے کی طرف سے ادا کیا جانے والا ایک مشروع عمل ہے۔ اگر کسی بچّے کا عقیقہ شرعی طریقے کے مطابق ایک مرتبہ ہوچکا ہو خواہ والدین نے کیا ہو یا نانیہال والوں نے اپنے خرچ سے والدین کی اجازت سے کیا ہو تو اس کے بعد دوبارہ عقیقہ کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ عقیقہ کا مقصد حاصل ہوچکا
البتہ اگر والد صاحب اپنے بچّے کی خوشی میں نفلی طور پر جانور ذبح کرنا چاہیں رشتہ داروں کو کھانا کھلانا چاہیں یا صدقہ کرنا چاہیں تو یہ جائز ہے لیکن اسے دوسرا عقیقہ قرار دینا درست نہیں کیونکہ ایک بچّے کی طرف سے عقیقہ ایک ہی مرتبہ مشروع ہے
فقہائے کرام نے تصریح فرمائی ہے کہ عقیقہ ولادت کی نعمت پر شکرانے کے طور پر مشروع ہے، لہٰذا جب ایک مرتبہ ادا ہو جائے تو اس کی ادائیگی دوبارہ مطلوب نہیں رہتی
فتاویٰ شامی میں ہے: العقيقة تذبح شكراً لله تعالى على نعمة الولد
ترجمہ: عقیقہ اولاد کی نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کے لیے ذبح کیا جاتا ہے
(رد المحتار علی الدر المختار المکتب دار الفكر)
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر نانیہال والوں نے بچّے کا عقیقہ صحیح طور پر کردیا ہے تو والد پر دوبارہ عقیقہ کرنا لازم یا مسنون نہیں البتہ وہ نفلی جانور ذبح کرکے ثواب حاصل کرسکتے ہیں مگر اسے عقیقہ نہ کہا جائے
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبہ العبد خاکسار ناچیز محمد شفیق رضا رضوی خطیب و امام سنّی مسجد حضرت منصور شاہ رحمت اللہ علیہ بس اسٹاپ کشنپور فتحپور الھند
