بغیر عزر شرعی کے امام کو معزول کرنا کیسا؟

 

سوال) حضرت صاحب شرعی عذر یا بغیر شرعی عذر کے امام کو مسجد سے معزول کرنا کیسا؟

(جواب) اگر امام صحیح العقیدہ صحیح القراءت اور شرعی اعتبار سے امامت کا اہل ہو تو اسے بلا وجۂ شرعی معزول کرنا ناجائز اور گناہ ہے، کیونکہ اس میں اہلِ دین کی اہانت اور مسجد کے نظم کو خراب کرنا ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا لَيْسَ مِنْ أُمَّتِي مَنْ لَمْ يُجِلَّ كَبِيرَنَا وَيَرْحَمْ صَغِيرَنَا وَيَعْرِفْ لِعَالِمِنَا. یعنی وہ شخص میری امت میں سے نہیں جو ہمارے بڑوں کی تعظیم نہ کرے، ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور ہمارے عالم کا حق نہ پہچانے (مسند أحمد، م: ٢٢٧٥٥) البتہ اگر امام میں کوئی شرعی خرابی ہو جیسے بدعقیدگی فاسقِ معلن ہونا یا قراءت میں ایسی غلطی جو نماز کو فاسد کر دے یا اس میں کوئی بات ہو جو تخفیف جماعت کا سبب ہو یا لوگ اس سے متنفر ہوں، تو ایسے امام کو معزول کرنا جائز بلکہ بعض صورتوں میں ضروری ہے اور یہ کام بھی اہلِ اختیار وذمہ دارانِ مسجد باہمی مشورہ اور حکمت کے ساتھ کریں تاکہ فتنہ وفساد پیدا نہ ہو۔ والله تعالى أعلم بالصواب 

كتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی

(سوال) معلوم یہ کرنا ہے کہ اگر کسی آدمی پر نفسانی یا شہوانی خیالات آ جائیں اور اس کے لنک میں تناؤ آ جائے تو تناؤ کی حالت میں چپ چپہ پانی یا جس کو لیس دار پانی کہتے ہیں تو اس لیس دار پانی کے نکلنے سے وضو ٹوٹے گا یا غسل فرض ہوگا؟

(جواب) شہوانی خیالات یا تناؤ کے وقت جو چپچپا یا لیس دار پانی خارج ہوتا ہے اسے مذی کہتے ہیں، اس کے نکلنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے لیکن غسل فرض نہیں ہوتا البتہ اگر منی (گاڑھا سفید مادہ جو عموما شہوت کے ساتھ اچھل کر نکلتا ہے اور اس کے بعد شہوت میں کمی آتی ہے) خارج ہو تو اس صورت میں جب شہوت کے ساتھ نکلے تو غسل فرض ہو جاتا ہے مذی کے بارے میں حدیث میں ہے کہ حضرت علی رضی الله عنه فرماتے ہیں کہ مجھے مذی کی کثرت ہوتی تھی تو میں نے نبی کریم ﷺ سے دریافت کروایا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس میں وضو ہے (یعنی غسل نہیں) (صحیح البخاری، م: ١٣٢) والله تعالى أعلم بالصواب 

(سوال) بچے کا نام اریاج رکھنا کیسا ہے؟

(جواب) اریاج (أرياج) عربی میں کوئی معروف اچھا معنی رکھنے والا نام نہیں ہے لہذا یہ نام نہ رکھا جائے۔ اریاج یونانی طب میں ایک مرکب دوا کو کہتے ہیں جو معدہ صاف کرنے اخلاط خارج کرنے اور علاجِ امراضِ بطن میں استعمال ہوتی ہے۔ والله تعالى أعلم بالصواب 


(سوال) لونگی نیچے کے جانب سے تھوڑا بہت فولڈ رہتی ہے اور کرتا کا کالر بھی فولڈ رہتا ہے، اور کبھی ٹوپی بھی فولڈ ہو جاتی ہے نیز کالر کا اوپر والا بٹن بھی کبھی کھلا رہ جاتا ہے تو کیا ان صورتوں میں نماز میں کوئی کراہت یا قباحت لازم آتی ہے؟

(جواب) دوران نماز جسم پر موجود پہنے جانے والے کپڑوں کا خلاف معتاد طور پر مڑا ہوا ہونے میں ضرور کراہت وقباحت ہے جیسے آستین یا پائینچے یا لنگی کا چڑھا ہونا لیکن عموم بلوی کے سبب یہ کراہت تحریمی نہیں ہے جبکہ اس حد تک نہ ہو کہ اس سے توہین نماز سمجھا جا سکے اور اس صورت میں حکم اعادہ بھی نہ ہوگا۔ اسی طرح کرتا کا کالر فولڈ ہونا، ٹوپی کا معمولی سا مڑ جانا یا اوپر والا بٹن کھلا ہونا اگر عام عادت کے مطابق ہو تو اس میں بھی حرج شدید نہیں ہے۔ والله تعالى أعلم بالصواب 

(سوال) اگر کوئی شخص نمازِ عید میں اس وقت شامل ہو کہ امام پہلی رکعت کی ایک، دو یا تین زائد تکبیریں کہہ چکا ہو، یا رکوع میں جا چکا ہو، تو وہ اپنی چھوٹی ہوئی تکبیریں کس طرح ادا کرے اور اس کی نماز کا کیا حکم ہوگا؟

(جواب) اگر مقتدی پہلی رکعت میں قیام کی حالت میں امام کے ساتھ شامل ہو اور امام زائد تکبیریں کہہ چکا ہو تو یہ شخص تکبیرِ تحریمہ کے بعد فوراً اپنی رہ جانے والی زائد تکبیریں کہے، اگرچہ امام نے قراءت شروع کر دی ہو، پھر خاموش ہو کر امام کی قراءت سنے۔ اور اگر وہ اس وقت شامل ہو جب امام رکوع میں جا چکا ہو تو اگر اسے غالب گمان ہو کہ قیام میں تکبیریں کہہ کر رکوع میں امام کو پا لے گا تو پہلے قیام میں تکبیریں کہے پھر رکوع کرے، ورنہ سیدھا رکوع میں جا کر بغیر ہاتھ اٹھائے تکبیریں کہے، اور اگر امام رکوع سے اٹھ جائے تو باقی تکبیریں ساقط ہو جائیں گی تاکہ متابعت فوت نہ ہو۔ اور اگر امام کو رکوع سے اٹھنے کے بعد پایا تو اس رکعت کی تکبیریں ادا نہیں کرے گا بلکہ بعد میں اس رکعت کی قضا تکبیروں سمیت کرے گا۔ والله تعالى أعلم بالصواب 

کتبہ ندیم ابن علیم المصبور العینی ممبئی مہاراشٹر انڈیا 

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ