بکری کی قربانی کا انکار کرنے والے کے متعلق حکم


 بکری کی قربانی کا انکار کرنے والے کے متعلق حکم

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر کوئی شخص نا علمی میں یہ کہہ دے کہ بکری کی قربانی نہیں ہو سکتی، تو اُس پر کیا حکمِ شرعی لازم ہوگا؟

عبداللہ راجستھان

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِكِ الْوَهَّابِ

بکری بکرا بھیڑ اور دنبہ وغیرہ کی قربانی کرنا شریعتِ مطہرہ سے ثابت ہے اور یہ جانور قربانی کے معتبر جانوروں میں داخل ہیں لہٰذا اگر کوئی شخص محض لاعلمی اور جہالت کی بنا پر یہ کہہ دے کہ بکری کی قربانی نہیں ہو سکتی تو اُس پر فوراً کفر یا فسق کا حکم نہیں لگایا جائے گا بلکہ اُسے مسئلہ سمجھایا جائے گا کہ شریعت میں بکری کی قربانی جائز بلکہ مشروع ہے

البتہ اگر کوئی شخص واضح شرعی حکم معلوم ہونے کے باوجود جان بوجھ کر شریعت کے ثابت شدہ حکم کا انکار کرے یا قربانی کے مشروع جانور ہونے کا مذاق اُڑائے، تو یہ سخت گناہ اور بعض صورتوں میں کفر تک پہنچا سکتا ہے

احادیثِ مبارکہ میں بکری کی قربانی کا ثبوت موجود ہے چنانچہ حضور اقدس ﷺ نے مینڈھوں کی قربانی فرمائی اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے بھی بکری وغیرہ کی قربانی ثابت ہے فقہاءِ کرام نے بھی تصریح فرمائی ہے کہ بکری قربانی کے جائز جانوروں میں سے ہے

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر اس شخص نے نادانی میں ایسا کہا ہے تو اُس پر لازم ہے کہ اپنے قول سے رجوع کرے توبہ و استغفار کرے اور آئندہ بغیر علم کے دینی مسائل میں گفتگو نہ کرے

وَاللّٰهُ تَعَالٰی أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ

کتبہ العبد خاکسار ناچیز محمد شفیق رضا رضوی خطیب و امام سنّی مسجد حضرت منصور شاہ رحمت اللہ علیہ بس اسٹاپ کشنپور فتحپور الھند

✔️✔️✔️ الجواب صحیح والمجیب النجیح فقط مفتی خواجہ صبر نواز قادری رضوی بانی دارالعلوم فیضان امام علم فن للبنات

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ