عیدالاضحیٰ کے دن پیدا ہونے والے بکرے کی قربانی کا حکم؟


 عیدالاضحیٰ کے دن پیدا ہونے والے بکرے کی قربانی کا حکم

السؤال:

ہمارے بکرے کی پیدائش پچھلی عیدالاضحیٰ کے دن ہوئی تھی تو کیا اس سال عیدالاضحیٰ میں اُس کی قربانی ہوجائے گی یا اگلے دن ہوگی؟ برائے کرم رہنمائی فرمائیں

سائل: عبداللہ راجستھان

الجواب بعون الملک الوہاب

قربانی کے لیے بکری یا بکرا شرعاً کم از کم ایک سال عمر کا ہونا ضروری ہے لہٰذا اگر مذکورہ بکرا پچھلی عیدالاضحیٰ کے دن پیدا ہوا تھا تو اس سال جب قربانی کی جائے گی اگر اُس وقت تک قمری اعتبار سے اس کی عمر مکمل ایک سال ہوچکی ہو تو اُس کی قربانی جائز اور درست ہوگی ورنہ نہیں

البتہ عموماً ایسا جانور جو پچھلی عید کے دن پیدا ہوا ہو اگلی عید تک ایک سال کے قریب بلکہ مکمل ہو ہی جاتا ہے اس لیے غالب صورت میں اُس کی قربانی درست ہوجاتی ہے خاص طور پر جبکہ وہ دیکھنے میں بھی سال بھر کا معلوم ہوتا ہو

فقہائے کرام نے فرمایا: الثني من المعز ما تم له سنة

یعنی بکری میں وہ جانور قربانی کے قابل ہے جس کی عمر ایک سال مکمل ہوچکی ہو

(بدائع الصنائع کتاب الأضحیۃ)

لہٰذا قمری تاریخ کے اعتبار سے ایک سال مکمل ہونے کی تحقیق کرلی جائے تو بہتر اور باعثِ اطمینان ہے

وَاللہُ تَعَالٰی أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ

کتبہ العبد خاکسار ناچیز محمد شفیق رضا رضوی خطیب و امام سنّی مسجد حضرت منصور شاہ رحمت اللہ علیہ بس اسٹاپ کشنپور فتحپور الھند

✔️✔️✔️ الجواب صحیح والمجیب النجیح فقط مفتی خواجہ صبر نواز قادری رضوی بانی دارالعلوم فیضان امام علم فن للبنات

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ