بلا تحقیق کسی کی بات پھیلانا کیسا؟


 ⚡ بلا تحقیق بات پھیلانا ⚡


(سوال) آج کل لوگ کان کے اتنے کچے ہو گئے ہیں کہ بغیر تحقیق کئے لوگ کہتے ہیں کہ فلاں عالم ایسے ہیں فلاں امام ایسا ہے، فلاں شخص ایسا ہے جبکہ کہنے والوں کے پاس نہ کوئی شرعی ثبوت ہوتا ہے ایسے کہنے والوں پر اور ایسا سن کر آگے بڑھانے پر کیا حکم ہے؟

(جواب) بغیر تحقیق کسی کے بارے میں بات پھیلانا خصوصاً علماء یا مسلمانوں کی عزت پر حرف لانا شریعت میں سخت حرام اور گناہِ کبیرہ ہے کیونکہ یہ غیبت بہتان اور اشاعتِ فتنہ میں داخل ہے الله تعالیٰ کا ارشاد ہے يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَن تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَىٰ مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ یعنی اے ایمان والو اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو تحقیق کرلو کہ کہیں کسی قوم کو بےجانے ایذا نہ دے بیٹھو پھر اپنے کیے پر پچھتاتے رہ جاؤ (القرآن الکریم، ٦/٤٩) اور فرمایا: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِّنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا يَغْتَب بَّعْضُكُم بَعْضًا أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَن يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ تَوَّابٌ رَّحِيمٌ یعنی اے ایمان والو بہت گمانوں سے بچو بیشک کوئی گمان گناہ ہوجاتا ہے اور عیب نہ ڈھونڈھو اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو کیا تم میں کوئی پسند رکھے گا کہ اپنے مرے بھائی کا گوشت کھائے تو یہ تمہیں گوارا نہ ہوگا اور الله سے ڈرو بیشک الله بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔ (القرآن الکریم ١٢/٤٩)۔ نیز رسول الله ﷺ نے فرمایا كَفَىٰ بِالْمَرْءِ كَذِبًا أَنْ يُحَدِّثَ بِكُلِّ مَا سَمِعَ یعنی آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات بیان کرتا رہے (صحیح مسلم م: ٥) لہٰذا بغیر تحقیق کسی پر الزام لگانا یا سنی سنائی بات کو آگے پھیلانا سخت گناہ ہے اور سننے والا بھی اگر اسے آگے بڑھائے تو وہ بھی گناہ میں شریک ہوگا اس لیے ہر مسلمان پر لازم ہے کہ زبان اور کان کی حفاظت کرے، تحقیق کے بغیر نہ خود کچھ کہے اور نہ آگے پہنچائے والله تعالى أعلم بالصواب 

⚡⚡⚡⚡

كتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی ممبئی مہاراشٹر 

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ