السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلے کے بارے میں قربانی کا جانور کس سے ذبح کروانا چاہیے
یعنی قربانی کا جانور کس سے ذبح کروانا افضل ہے
المستفی عبداللہ
الجواب بعون الملک الوہاب
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکتہ
قربانی کا جانور اگر صاحبِ قربانی خود شرعی طریقے کے مطابق ذبح کرنا جانتا ہو تو اپنے ہاتھ سے ذبح کرنا افضل اور باعثِ زیادہ ثواب ہے کہ یہ سنتِ مبارکہ ہے چنانچہ محمد ﷺ نے اپنی قربانی اپنے دستِ مبارک سے ذبح فرمائی
اور اگر خود ذبح کرنا نہ جانتا ہو یا غلطی کا اندیشہ ہو تو کسی دیندار مسلمان اور ذبح کے مسائل جاننے والے شخص سے ذبح کروانا چاہیے البتہ صاحبِ قربانی کا ذبح کے وقت موجود رہنا مستحب اور بہتر ہے
لہٰذا افضل یہی ہے کہ 1 اگر صحیح ذبح کرنا جانتا ہو تو خود قربانی کرے 2 ورنہ کسی عالم دین سنی صحیح العقیدہ سےکرایاجاۓ 3 ناواقف شخص سے ذبح کروانا مکروہِ احتیاطی اور خلافِ بہتر ہے
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم ﷺ نے دو مینڈھوں کی قربانی اپنے دستِ مبارک سے ذبح فرمائی (صحیح بخاری کتاب الأضحیۃ)
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبہ العبد خاکسار ناچیز محمد شفیق رضا رضوی خطیب و امام سنّی مسجد حضرت منصور شاہ رحمت اللہ علیہ بس اسٹاپ کشنپور فتحپور الھند
✔️✔️✔️ الجواب صحیح والمجیب النجیح فقط مفتی خواجہ صبر نواز قادری رضوی بانی دارالعلوم فیضان امام علم فن للبنات
