(مسئلہ) نماز جمع کرنا کسے کہتے ہیں اس کی حقیقت کیا ہے؟
(جواب) جمع بین الصلاتین یعنی دو نمازوں کو ایک ساتھ ادا کرنا دو قسم پر مشتمل ہے (الف) جمع فعلی (جمع صوری) اس میں ہر نماز حقیقت میں اپنے وقت پر ادا کی جاتی ہے، مگر ادائیگی میں دونوں بظاہر ایک ساتھ نظر آتی ہیں۔ جیسے ظہر کو آخری وقت میں پڑھا جائے اور فوراً بعد عصر ادا کرلی جائے اسی طرح مغرب میں تاخیر کی جائے یہاں تک کہ شفق غروب ہونے کے قریب ہو، پھر مغرب پڑھی جائے اور فوراً بعد عشاء ادا کر لی جائے یہ طریقہ مرض سفر یا کسی شدید ضرورت کے تحت جائز ہے (ب) جمع وقتی (جمع حقیقی) اس میں ایک نماز کو دوسری نماز کے وقت میں ادا کیا جاتا ہے، اور اس کی دو صورتیں ہیں (اول) جمع تقدیم پہلے وقت کی نماز (مثلاً ظہر) پڑھ کر اس کے فوراً بعد بعد والی نماز (عصر) کو پیشگی ادا کرنا (دوم) جمع تاخیر پہلی نماز (مثلاً مغرب) کو جان بوجھ کر مؤخر کر دینا تاکہ اسے دوسری نماز (عشاء) کے وقت میں پڑھا جائے یہ دونوں صورتیں بحالتِ اختیار صرف حجاج کرام کے لیے مخصوص ہیں، وہ بھی صرف عرفہ میں عصر اور مزدلفہ میں مغرب کے ساتھ حج کے مخصوص اعمال کی وجہ سے ہے۔ اس کے علاوہ کسی بھی حالت میں نماز کو مقدم یا مؤخر کرکے جمع کرنا حرام ہے والله تعالى أعلم بالصواب
كتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی
(المسئلة) هل يصير تكرار المكروه حرامًا؟
(الجواب) المكروه التحريمي لا يصير حراما بذاته بسبب الإصرار، بل الإصرار عليه هو المحرم. فإن المداومة على الفعل المكروه توقع الإنسان في الكبائر، لأن تكرار ارتكاب المكروه يزيل قبحه من القلب، وقد يقوده ذلك إلى الوقوع في الحرام. والله تعالى أعلم بالصواب
كتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی
(مسئلہ) اگر کسی شخص نے سحری کے وقت کے ختم ہونے کے بعد پندرہ منٹ تک کھایا، اور بعد میں اسے معلوم ہوا کہ سحری کا وقت ختم ہوچکا تھا، تو کیا اس کا روزہ ہو جائے گا؟ (نوٹ: روزانہ مسجد سے اعلان ہوتا تھا، لیکن آج نہیں ہوا، اس وجہ سے ایسا ہوا۔)
(جواب) نہیں، قضا لازم ہوگی۔ والله أعلم۔
كتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی
(مسئلہ) کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلے میں کہ ایک منقبت حضرت فاطمہ رضی الله تعالی عنها کے بارے میں ہے جس میں یہ اشعار ہیں نبی کے گھر میں جو رحمت ہیں فاطمہ زہرا + خدا کی خاص عنایت ہیں فاطمہ زہرا کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ہم جو کچھ سنتے ہیں، وہ دماغ میں گونجنے لگتا ہے۔ اب زید کے دماغ میں یہ الفاظ آنے لگے: "خدا کے گھر کی جو زینت ہیں فاطمہ زہرا زید نے زبان سے کچھ نہیں کہا تھا، لیکن اسے لگا کہ شاید یہ شعر غلط نہ ہو جائے، تو اس نے احتیاطاً توبہ کر لی۔ تو ارشاد فرمائیے کیا ایسا کہنا کہ خدا کے گھر کی زینت ہیں فاطمہ زہرا"، شرعا قبیح ہے؟ اور اگر صرف دل میں خیال آیا اور زبان سے نہیں کہا تو کیا حکم ہے؟
(جواب) اگر کسی نے "خدا کے گھر کی زینت ہیں فاطمہ زہرا کہا اور اس سے مراد بیت الله (کعبہ) لیا جائے تب بھی یہ جملہ ظاہری الفاظ کے لحاظ سے محل اشکال ہے، حضرت فاطمہ رضی الله عنها کی شان انتہائی بلند ہے، مگر بیت الله سے ان کا کوئی خصوصی تعلق اس طرح ثابت نہیں جس سے یہ جملہ درست ہو بالفرض یہ جملہ مذموم ہوتا تب بھی اگر صرف دل میں خیال آیا زبان سے کچھ نہیں کہا تو اس پر کوئی گناہ نہ ہوتا کہ اسلام میں محض خیالات پر مؤاخذہ نہیں ہوتا متفق علیہ حدیث میں ہے إن الله تجاوز عن أمتي ما حدثت به أنفسها ما لم تعمل أو تتكلم. (صحيح البخاری، م: ٥٢٦١؛ التأصیل) یعنی الله عزوجل نے میری امت کے ان خیالات کو معاف فرما دیا ہے جو ان کے دلوں میں آتے ہیں جب تک کہ وہ ان پر عمل نہ کریں یا زبان سے نہ کہیں والله تعالى أعلم بالصواب
كتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی
(سوال) میں ایک غیر مسلم کی دکان پر کام کرتا ہوں جہاں روزانہ اسپیکر پر ہنومان چالیسہ یا ان کے مذہبی گیت بجائے جاتے ہیں۔ میں روزے کی حالت میں ہوتا ہوں تو کیا میرے روزے درست ہوں گے؟ اور اس صورت حال میں میرے لیے کیا حکم ہے؟
(جواب) جب نیت ان گانوں کو سننے کی نہیں ہے اور کسی مجبوری کے تحت سننا پڑ رہا ہو تو تو اس سے روزے پر کوئی اثر نہیں پڑتا نہ کوئی گناہ ہوتا ہے۔ والله تعالى أعلم بالصواب
كتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی
(سوال) کیا نفل نماز کے سجدہ میں دعا کرنا جائز ہے؟ کون سی دعائیں جائز ہیں؟
(جواب) قرآنی دعائیں بغیر قراءت کی نیت کے پڑھنا مسنون دعائیں اسی طرح مثل دعائیں بھی پڑھنا جائز ہے جیسے رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً یا اللهم إني أعوذ بك من عذاب جهنم اگر دعا میں غیر قرآنی وغیر حدیثی الفاظ ہوں اور ان میں ایسی چیز طلب کی جائے جو الله تعالی ہی سے مانگی جاتی ہے تو وہ درست ہے لیکن اگر دعا میں کسی ایسی چیز کا سوال ہو جو عام انسانوں سے بھی مانگی جا سکتی ہو تو اگر وہ تشہد کے برابر ہو تو نماز فاسد ہو جائے گی ورنہ نہیں والله تعالى أعلم بالصواب
كتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی
