(سوال) علمائے کرام کی خدمت میں ایک سوال عرض ہے کہ ایک شخص جو حقوق الله اور حقوق العباد میں بالکل صاف تھا اور معاملات میں بھی دیانت دار تھا لیکن کچھ عرصہ پہلے کاروباری معاملات کی وجہ سے اس سے تھوڑی بہت نوک جھونک ہو گئی تھی یہ معمولی سی بات تھی جس سے ہمارے آپسی تعلقات پر کوئی خاص فرق نہیں پڑا لیکن اس کے بعد میں کبھی کبھار اس کی غیبت کر لیا کرتا تھا پھر جب مجھے احساس ہوا کہ میں غلط کر رہا ہوں تو میں نے اس کی غیبت کرنا چھوڑ دی لیکن ہمت نہ ہوئی کہ جا کر معافی مانگ لوں اب چند دن پہلے وہ شخص دنیا سے رخصت ہو گیا ہے اب میرا سوال یہ ہے کہ میں اس کی غیبت کی معافی نہیں مانگ سکا اور وہ اب اس دنیا میں بھی نہیں ہے تو میں کیا کروں؟ یہ چیز مجھے بہت پریشان کر رہی ہے کیا اس گناہ کی کوئی تلافی ہے جس سے اللہ مجھے معاف فرما دے؟ یا پھر قیامت کے دن مجھے اس گناہ کی سزا بھگتنی ہوگی؟
(جواب) آپ صدق دل سے الله سے توبہ کریں، مغفرت کی امید رکھیں اور آئندہ کے لیے عزم کریں کہ کسی کی غیبت نہیں کریں گے ساتھ ہی ساتھ دعا کریں کہ آپ بروز قیامت اس شخص کو رحمدل پائیں گے، اتنا کرنا کافی ہے ممکن ہوتو جس شخص کی غیبت کی تھی اس کے لیے خوب دعائے مغفرت کریں اور اس کے حق میں نیک اعمال کریں جیسے صدقہ دینا قرآن خوانی کرنا یا کسی اور نیکی کا اہتمام کرنا علاوہ ازیں ان کے اہلِ خانہ قریبی لوگوں اور جن سے غیبت کی ہے ان میں اس کی نیکیوں اور خوبیوں کا تذکرہ کریں تاکہ غیبت کے ذریعے جو منفی تاثر پیدا ہوا تھا وہ ختم ہو جائے والله تعالى أعلم
(مسئلہ) ایصالِ ثواب کا کھانا کن کے لیے جائز ہے؟ نیز مدرسے کے طلبہ کا میت کے گھر جا کر ایصالِ ثواب کے لیے قرآن پڑھنا اور میت کے گھر والوں کا انہیں کھانا کھلانا کیسا ہے؟
(جواب) ایصالِ ثواب کا کھانا جب بطور دعوت نہ ہو، سب کے لیے جائز ہے، یعنی خود بھی کھا سکتے ہیں اور عزیز و اقارب احباب اغنیاء و فقراء سب کو کھلا سکتے ہیں البتہ فقرا و مساکین کو کھلانا افضل ہے جہاں تک مدرسے کے طلبہ کا میت کے گھر جا کر قرآن پڑھنے اور اس کے بدلے میں کھانے کا تعلق ہے تو اگر وہ طلبہ بلا معاوضہ محض ایصالِ ثواب کی نیت سے قرآن پڑھیں اور گھر والے احسان کے طور پر انہیں کھانے کو کچھ دیں تو جائز ہے والله تعالی أعلم۔
كتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی ممبئی مہاراشٹر انڈیا
