کیا حاجی کے حقوق العباد بھی معاف کیے جاتے ہیں؟

 

⚡ کیا حاجی کے حقوق العباد بھی معاف کیے جاتے ہیں؟ ⚡


(سوال) ہم نے سنا ہے کہ حج کرنے والا گناہوں سے ایسے پاک ہو جاتا ہے جیسے آج ہی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہو۔ کیا اس کے حقوق الله کے ساتھ ساتھ حقوق العباد بھی معاف ہو جاتے ہیں؟

(جواب) بے شک احادیثِ مبارکہ میں آیا ہے کہ جو شخص اخلاص کے ساتھ گناہوں سے بچتے ہوئے حج ادا کرے وہ گناہوں سے ایسا پاک ہو جاتا ہے جیسے آج ہی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہو۔ چنانچہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا «مَنْ حَجَّ لِلَّهِ فَلَمْ يَرْفُثْ وَلَمْ يَفْسُقْ رَجَعَ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ» یعنی جو الله تعالى کے لیے حج کرے اور نہ بے حیائی کرے نہ گناہ، وہ ایسا واپس ہوتا ہے جیسے اس دن تھا جب اس کی ماں نے اسے جنا تھا۔ (صحیح البخاری، م: ١٥٢١) اس اور دیگر احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حاجی کے حقوق العباد بھی قبولیت کی صورت میں الله عزوجل اپنے ذمہ کرم پر لے لیتا ہے اور مظلوم کو بروز قیامت راضی فرمائے گا لہذا امام اہل سنت رحمة الله عليه پانچ کی فہرست میں اول حاجی کا ذکر یوں فرماتے ہیں اول حاجی کہ پاک مال پاک کمائی پاک نیت سے حج کرے اور اس میں لڑائی جھگڑے اورعورتوں کے سامنے تذکرہ جماع اور ہر قسم کے گناہ ونافرمانی سے بچے اس وقت تک جتنے گناہ کئے تھے بشرط قبول سب معاف ہوجاتے ہیں پھر اگر حج کے بعد فورا مرگیا تو اتنی مہلت نہ ملی کے حقوق الله عزوجل یا بندوں کے اس کے ذمہ تھے انہیں ادا یا ادا کی فکر کرتا تو امید واثق ہے کہ مولی تعالی اپنے تمام حقوق سے مطلقا درگزر فرمائے یعنی نماز روزہ زکوۃ وغیرہا فرائض کہ بجا نہ لایا تھا ان کے مطالبہ پر بھی قلم عفو الہی پھر جائے اور حقوق العباد ودیون ومظالم مثلاً کسی کا قرض آتا ہو، مال چھینا ہو برا کہا ہو ان سب کو مولی تعالی اپنے ذمہ کرم پر لے لے اصحاب حقوق کو روز قیامت راضی فرما کر مطالبہ وخصومت سے نجات بخشے یوں ہی اگر بعد کو زندہ رہا اور بقدرِ قدرت تدارکِ حقوق ادا کر لیا یعنی زکوٰۃ دے دی نماز روزہ کی قضا ادا کی، جس کا جو مطالبہ آتا تھا دے دیا جسے آزار پہنچا تھا معاف کرا لیا جس مطالبہ کا لینے والا نہ رہا یا معلوم نہیں اس کی طرف سے تصدق کر دیا بوجہِ قلتِ مہلت جو حق الله عزوجل یا بندہ کا ادا کرتے کرتے رہ گیا اس کی نسبت اپنے مال میں وصیت کر دی غرض جہاں تک طرقِ براءت پر قدرت ملی تقصیر نہ کی تو اس کے لیے امید اور زیادہ قوی ہے کہ اصل حقوق کی یہ تدبیر ہوگئی اور اِثمِ مخالفت حج سے دھل چکا تھا ہاں اگر بعدِ حج باوصف قدرت ان امور میں قاصر رہا تو یہ سب گناہ ازسرِ نو اس کے سر ہوں گے کہ حقوق تو خود باقی ہی تھے ان کی ادا میں پھر تاخیر وتقصیر گناہ تازہ ہوئے اور وہ حج ان کے ازالہ کو کافی نہ ہوگا کہ حج گزرے ہوئے گناہوں کو دھوتا ہے آئندہ کے لیے پروانۂ بے قیدی نہیں ہوتا، بلکہ حجِ مبرور کی نشانی ہی یہ ہے کہ پہلے سے اچھا ہو کر پلٹے۔ فَإِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ۔ (فتاوی رضویہ، ٤٦٨/٢٤) والله تعالى أعلم بالصواب 

كتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ