(سوال) دیوبندیوں کے ایک عالم نے نبی کریم ﷺ کو "ان پڑھ" لکھا، اس وجہ سے ہم انہیں کافر کہتے ہیں۔ مگر دیوبندی لوگ جواب میں تفسیرِ مظهری پیش کر رہے ہیں جس میں بھی یہی لفظ لکھا گیا ہے۔ اس کا جواب عنایت فرمائیں۔
(جواب) نبی کریم ﷺ کو ان پڑھ کہنا اگر تعظیم وادب کے خلاف انداز میں ہو تو یہ گستاخی ہے کیونکہ یہ لفظ عام طور پر گنوار، کم علم اور کمتر لوگوں کے لیے استعمال ہوتا ہے لہذا شانِ نبوت کے لائق نہیں اور کہنے والا کافر ہو جاتا ہے۔ یہ کہنا کہ "حضور ﷺ امی تھے یا انہوں نے پڑھا لکھا نہیں تھا" اور ساتھ ہی ساتھ محاسن ذکر کیے جائیں تو یہ جائز ہے، اسی طرح تفسیر مظہری میں ہے۔ ہم دیوبندیوں کو محض اس لفظ کے ذریعے توہین کے سبب سے کافر نہیں کہتے، بلکہ ان کے بعض علماء کی تحریرات میں موجود کھلے کفریہ جملوں کی بنا پر ان پر یہ حکم لگایا گیا ہے۔ اور تفسیرِ مظہری کا حوالہ دے کر معاملے کو برابر کرنا درست نہیں، کیونکہ وہاں یہ لفظ کسی توہین آمیز نیت سے نہیں لکھا گیا۔ اور بغیر کتاب وقلم کی حاجت کے قرآن سیکھنا سکھانا آپ میں ہی کمال ہے اور اس سے کفار کو یہ گمان نہ ہوا کہ حضور ﷺ نے اپنی پڑھائی لکھائی کے دم پر قرآن مجید بنایا ہے بلکہ وہ نازل کیا گیا ہے پاک پروردگار کی طرف سے۔ والله تعالى أعلم۔
(سوال) کرائے پر دینے کی نیت سے دکان خریدی تھی لیکن اب کوئی کرایہ دار نہیں ہے اور دکان بیچنے کا ارادہ ہے، کیا اس دکان پر بھی زکوۃ ہے؟ برائے کرم تفصیل سے جواب عنایت فرمائیں۔
(جواب ) صورت مستفسرہ میں دکان پر زکوۃ واجب نہیں ہوگی کیونکہ زکوۃ ان چیزوں پر فرض ہوتی ہے جو تجارت کی نیت سے خریدی اور رکھی جائیں۔ ہاں، جب دکان فروخت ہوجائے اور اس کی رقم مل جائے تو اگر وہ نصاب کو پہنچے تو سال مکمل ہونے پر اس پر زکوۃ واجب ہوگی یا اگر دیگر اموال کے سبب پہلے ہی صاحب نصاب تھا اور گھر کی رقم پر سال گزرنے سے قبل اس پر نصاب پر زکوۃ کی ادائیگی کی تاریخ ہے تو گھر کی قیمت جو ہاتھ میں ہے اس کی زکوۃ بھی ساتھ ہی میں ادا کرے گا۔ قال الإمام الحصكفي رحمة الله عليه: ولو نوى التجارة بعد العقد أو اشترى شيئا للقنية ناويا أنه إن وجد ربحا باعه لا زكاة عليه. (در المختار، ص: ١٢٨) والله تعالى أعلم۔
(مسئلہ) کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ میں کہ اگر بستر پر لیٹ کر ہم ذکر الہی کرنا چاہتے ہیں تو ہم نے علماء سے یہ سنا ہے کہ پیر سمیٹ کر اور منہ کو کھلا رکھیں چادر کے باہر تو ذکر کر سکتے ہیں اور جتنے حصے پر آپ لیٹیں گے اتنا حصہ بستر کا پاک ہونا چاہیے۔ میرا سوال یہ ہے کہ گھر میں جو بستر ہوتے ہیں، بڑے بڑے گدے، رضائی، بڑی بڑی چادریں، اگر وہ ناپاک ہو جاتی ہیں تو ان کو پاک کرنا کافی دشوار ہوتا ہے، وہ صرف دھو لی جاتی ہیں اور سکھا کر بچھا لی جاتی ہیں۔ تو سوال یہ ہے کہ اگر بستر ناپاک ہے مگر صاف ستھرا ہے تو کیا اس پر بیٹھ کر ہم ذکر الله نہیں کر سکتے؟
(جواب) کرسکتے ہیں مگر ادب کا تقاضا یہی ہے کہ پاکی اور طہارت کی جگ پر ذکر کیا جائے۔ والله تعالى أعلم۔
(مسئلہ) ہنسنے اور مسکرانے کے بارے میں کیا مسئلہ ہے؟ ہنسنے سے نماز یا وضو ٹوٹ جاتی ہے یا نہیں؟
(جواب) اگر صرف مسکرایا کہ دانت نظر آئے مگر بالکل آواز نہ نکلی تو اس سے نہ نماز جائے گی اور نہ وضو ٹوٹے گا۔ اور اگر اتنی ہلکی آواز سے ہنسا کہ خود سن سکا مگر پاس والوں نے نہ سنا تو اس سے وضو نہیں جائے گا لیکن نماز جاتی رہے گی لیکن نماز کے اندر سوتے میں یا نمازِ جنازہ یا سجدۂ تلاوت میں قہقہہ لگایا تو وضو نہیں ٹوٹے گا، مگر وہ نماز یا سجدہ فاسد ہو جائے گا اور اگر نماز میں اتنی آواز سے قہقہہ لگایا کہ آس پاس والے سن لیں اور وہ جاگتے میں رکوع اور سجدہ والی نماز میں ہو تو اس سے وضو بھی ٹوٹ جائے گا اور نماز بھی فاسد ہو جائے گی۔ والله تعالى أعلم۔ بالصواب
⚡⚡⚡⚡
كتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی
