❓ سوال :
[کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ ولی اللہ کو سرکار نہیں کہنا چاہیے سرکار صرف حضورِ اکرم ﷺ کے لیے کہنا چاہیے کیا کسی ولی اللہ کو سرکار کہنا درست ہے؟ اور اگر کوئی شخص خیریت پوچھنے پر یہ کہے کہ غریب نواز کا رحم و کرم ہے یا غریب نواز کا فضل و کرم ہے تو یہ کہنا کیسا ہے؟]
🟢 الجواب بعون الملک الوھاب :
[لفظ سرکار کا مطلب آقا بزرگ اور عزت والے شخص کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے یہ لفظ صرف حضورِ اکرم ﷺ کے لیے خاص نہیں ہے۔ اگر کسی ولی اللہ کو محبت اور ادب کے طور پر سرکار کالفط استعمال کیاجاۓتوبلاشبہ شرعاً جائز ہے
ہاں حضورِ اکرم ﷺ ہمارےنبی ہمارےرسول سب سے بڑے آقا اور سردار ہیں اس لیے آپ ﷺ کے لیے سرکارِ مدینہ اور سرکارِ دو عالم جیسے الفاظ کہنا بہت اچھا اور محبت و ادب کا اظہار ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ کسی ولی اللہ کے لیے سرکار کا لفظ کہنا منع ہوجائے
اسی طرح اگر کوئی شخص خیریت پوچھنے پر کہے غریب نواز کا رحم و کرم ہے یا غریب نواز کا فضل و کرم ہے تو اس کے عقیدے کو دیکھا جائے گا۔ اگر اس کا عقیدہ یہ ہے کہ حقیقی طور پر فضل و کرم کرنے والا صحت دینے والا اور ہر نعمت عطا کرنے والا خواجہ غریب نواز ہے توبالکل ہی جائزنہیں ہے اس صفت سےمتصف فقط اللہ تعالیٰ ہی کی ذات پاک ہے اور غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ اللہ تعالیٰ کے نیک اور مقبول بندے ہیں اس کی عطاسے فضل وکرم کرنےوالا ہے تو ایسے شخص پر شرک کا حکم نہیں لگایا جائے گا جو کہے غریب نواز کارحم وکرم یاغریب نواز کافضل وکرم
البتہ عوام میں غلط فہمی سے بچنے کے لیے بہتر یہ ہے کہ یوں کہا جائے
اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کی ذات سے برکت عطا ہے
اس طرح بات بھی واضح ہوجاۓ گی اور عقیدے میں کوئی غلط فہمی بھی نہیں ہوگی]
❖ واللہ اعلم بالصواب ❖
