مزدور کام خراب کر دے تو کیا وہ مزدوری کا حقدار ہے؟
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام کہ جو مزدور اپنے کام کو صحیح نہ کیا ہو وہ مزدوری کا حقدار ہے؟ مطلب کام خراب کردیا ہو
المستفی محمد نظام الدین رضوی
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکتہ
الجواب بعون الملک الوہاب
صورتِ مسئولہ میں اگر مزدور کو کوئی کام کرنے کے لیے اجرت پر رکھا گیا اور اس نے اپنے عمل سے کام خراب کردیا مثلاً درست کرنے کے لیے کوئی چیز دی گئی اور اس نے درست کرتے ہوئے خراب کردی تو شرعی حکم میں وہ نقصان کا ذمہ دار ہوگا اور خراب کام کی پوری مزدوری کا مطالبہ نہیں کرسکتا
اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ اجیرِ مشترک کے ضمان کے متعلق فرماتے ہیں کہ جمہور ائمہ متاخرین نے ائمہ مذہب و صحابہ و تابعین رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے اختلافات دیکھ کر وہ قولِ فیصل اختیار فرمایا کہ اجیر اگر صلحائے متقین سے ہے تو قولِ امام مختار یا اس کے خلاف ہے تو قولِ صاحبین و ایجابِ ضمان اور مستور الحال ہے تو دونوں قول کے لحاظ سے نصف ضمان واجب نصف ساقط
(فتاویٰ رضویہ جلد ۱۹ صفحہ ۵۷۳ رضا فاؤنڈیشن لاہور)
لہٰذا اگر مزدور کی کوتاہی یا اس کے عمل سے کام خراب ہوا ہے تو مالک کو نقصان کی تلافی کا شرعی حق حاصل ہے۔ البتہ محض کام خراب ہوجانے سے ہر صورت میں پوری مزدوری ضبط کرنا درست نہیں بلکہ خرابی کی وجہ اور اجیر کی حالت کو دیکھ کر حکم ہوگا
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبہ العبد خاکسار ناچیز محمد شفیق رضا رضوی خطیب و امام سنّی مسجد حضرت منصور شاہ رحمت اللہ علیہ بس اسٹاپ کشنپور فتحپور الھند
✔️✔️✔️ الجواب صحیح والمجیب النجیح خلیفہ حضور تاج الشریعہ و نواسہ امام علم فن مفتی خواجہ صبر نواز قادری رضوی بانی دارالعلوم فیضان امام علم فن للبنات
