نماز میں سورۂ قریش کے بعد سورۂ کوثر پڑھنا؟
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
کیافرماتے ہیں علماءکرام ومفتیان اعظام مسئلہ ذیل میں
زید ایک مسجد کاامام ہے وہ مغرب کی نماز کی پہلی رکعت میں سورہ قریش کی تلاوت کرتاہے اور دوسری رکعت میں سورہ کوثر ۔بکر جومقتدی ہے ان کا کہناہے سورہ قریش کی تلاوت کے بعد سورہ کوثر کی تلاوت سے نماز دروست نہیں ہوگی کیا بکرکی بات صحیح ہے اس سوال کاجواب عنایت فرمائیں۔۔ المستفتی محمد فیروزعالم اشرفی جلپائی گوری بنگال
الجواب بعون الملک الوہاب
صورتِ مسئولہ میں زید امامِ مسجد ہیں اور مغرب کی نماز کی پہلی رکعت میں سورۂ قریش اور دوسری رکعت میں سورۂ کوثر کی تلاوت کرتے ہیں تو اس طرح نماز پڑھنا بالکل درست ہے نماز میں کوئی خرابی نہیں
کیونکہ قرآنِ کریم میں سورۂ قریش، سورۂ کوثر سے پہلے ہے، لہٰذا پہلی رکعت میں سورۂ قریش اور دوسری رکعت میں سورۂ کوثر پڑھنے میں سورتوں کی ترتیب بھی قائم رہی
بکر کا یہ کہنا کہ سورۂ قریش کے بعد سورۂ کوثر پڑھنے سے نماز درست نہیں ہوگی، صحیح نہیں ہے
نماز کی قراءت میں سورتوں کی ترتیب کا لحاظ رکھنا ضروری ہے۔ اگر کوئی شخص قصداً سورتوں کی ترتیب اس طرح الٹ دے کہ بعد والی سورت پہلی رکعت میں اور پہلے والی سورت دوسری رکعت میں پڑھے تو یہ مکروہِ تحریمی ہے لیکن محض اس وجہ سے نماز فاسد نہیں ہوتی
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں
ترتیب الٹنے سے نماز کا اعادہ واجب ہو نہ سجدہ سہو آئے ہاں یہ فعل ناجائز ہے، اگر قصداً کرے گنہگار ہوگا ورنہ نہیں
(فتاویٰ رضویہ جلد 7 صفحہ 358 رضا فاؤنڈیشن لاہور)
لہٰذا صورتِ مذکورہ میں سورۂ قریش کے بعد سورۂ کوثر پڑھنا شرعاً درست ہے اور امام و مقتدی کی نماز صحیح ادا ہوئی بکر غلط مسئلہ بتانے کی بنا پر توبہ کرے اور آئندہ بے جانے مسئلہ بتانے سے اجتناب برتنے کا عزم مصمم کرے
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبہ العبد خاکسار ناچیز محمد شفیق رضا رضوی خطیب و امام سنّی مسجد حضرت منصور شاہ رحمت اللہ علیہ بس اسٹاپ کشنپور فتحپور الھند
✔️✔️✔️ الجواب الصحیح والمجیب النجیح مولانا شاہد قادری رضوی منظری صاحب قبلہ اتر دیناجپور بنگال
✔️✔️✔️ الجواب صحیح والمجیب النجیح خلیفہ حضور تاج الشریعہ و نواسہ امام علم فن مفتی خواجہ صبر نواز قادری رضوی بانی دارالعلوم فیضان امام علم فن للبنات بہار الھند
