اہم اعلان
دار الافتاء میں آپ کا خیر مقدم ہے۔ اپنے شرعی سوالات کے مستند جوابات کے لیے رابطہ فرمائیں۔
شرعی فتویٰ

مذی کا وقت معلوم نہ ہو تو پچھلی نمازوں کا حکم؟


السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

ایک سوال عرض ہے کہ اگر اِمام صاحب نے تین وقت کی نماز پڑھائیں پھر عشاء بعد دیکھے کہ مذی ایک بوند گری ہوئی ہے پر یہ نہیں پتہ کہ کب گری ہے تو نماز میں کوئی فرق..؟

سائل محمد آفتاب حسین سہسرام بہار

وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکتہ

الجواب بعون الملک الوہاب

مذی ناپاک ہے اور اس کے نکلنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، لہٰذا اگر امام صاحب کو یقینی طور پر معلوم ہو کہ مذی نماز سے پہلے یا نماز کے دوران نکلی تھی تو اس وضو سے پڑھی ہوئی نماز کا اعادہ لازم ہوگا لیکن صورتِ مسئولہ میں امام صاحب نے تین وقت کی نماز پڑھائی پھر عشاء کے بعد مذی کی ایک بوند دیکھی اور یہ معلوم نہیں کہ وہ کب نکلی تھی تو محض اس احتمال کی وجہ سے سابقہ نمازوں کو فاسد قرار نہیں دیا جائے گا

فقہی اصول ہے:اليقين لا يزول بالشك یعنی یقین شک سے زائل نہیں ہوتا لہٰذا جب مذی کے نکلنے کا وقت معلوم نہیں تو پہلے سے موجود طہارت کو برقرار سمجھا جائے گا اور سابقہ نمازوں کے اعادے کا حکم نہیں ہوگا

البتہ اگر کوئی قوی قرینہ یا یقینی علامت ایسی ہو جس سے معلوم ہوجائے کہ مذی کسی مخصوص نماز سے پہلے نکلی تھی تو اس نماز اور اس کے بعد پڑھی گئی نمازوں کا حکم اسی اعتبار سے ہوگا

لہٰذا مذکورہ صورت میں صرف ایک بوند عشاء کے بعد نظر آنے کی وجہ سے امام صاحب کی گزشتہ تینوں نمازیں اور ان کی اقتدا میں لوگوں کی نمازیں فاسد نہیں کہیں جائیں گی بلکہ سب نمازیں درست شمار ہوں گی

علامہ ابن نجیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:اليقين لا يزول بالشك یعنی یقین شک کی وجہ سے زائل نہیں ہوتا

(الأشباه والنظائر الفن الأول، القاعدة الثانية)

اور مذی کے متعلق فقہِ حنفی میں ہے کہ اس کے خروج سے وضو ٹوٹ جاتا ہے

(فتاویٰ رضویہ، جلد 1 احکامِ طہارت)

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

کتبہ العبد خاکسار ناچیز محمد شفیق رضا رضوی خطیب و امام سنّی مسجد حضرت منصور شاہ رحمت اللہ علیہ بس اسٹاپ کشنپور فتحپور الھند

✔️✔️✔️ الجواب صحیح والمجیب النجیح خلیفہ حضور تاج الشریعہ و نواسہ امام علم فن مفتی خواجہ صبر نواز قادری رضوی بانی دارالعلوم فیضان امام علم فن للبنات بہار

✔️✔️✔️ الجواب الصحیح والمجیب النجیح مولانا شاہد قادری رضوی منظری صاحب قبلہ اتر دیناجپور بنگال
 

دار الافتاء میں اپنا شرعی سوال ارسال کریں

اپنا مسئلہ تحریر کریں، ان شاء اللہ جلد جواب دیا جائے گا

فہرستِ ابواب و کتبِ فقہ

موضوع اور زمرے کے اعتبار سے فتاویٰ کی فہرست