اہم اعلان
دار الافتاء میں آپ کا خیر مقدم ہے۔ اپنے شرعی سوالات کے مستند جوابات کے لیے رابطہ فرمائیں۔
شرعی فتویٰ

انشورنس کروانا اور اس کا ایجنٹ بننا کیسا؟



السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

شرعی مسئلہ:حضرت مفتی صاحب قبلہ السلامُ علیکم انشورینس کروانا کیسا ہے یا انشورینس کرنے کا ایجنٹ بنکر کام کر.نا اور پیسے کمانا کیسا ہے رہنمائی فرمادیں

سائل کا نام قاصدرضا 

شہر/مقام رانچی

رابطہ نمبر: 9122992700

الجواب بعون الملک الوہاب

مروجہ کمرشل انشورنس (Commercial Insurance) کی مختلف صورتیں ہیں، لیکن عام طور پر رائج انشورنس کے معاہدوں میں غرر (شدید جہالت و غیر یقینی) قمار (جوا) اور سود جیسے شرعی مفاسد پائے جاتے ہیں اسی وجہ سے اس طرح کی انشورنس شرعاً ناجائز ہے

انشورنس میں عموماً بیمہ دار کمپنی کو ماہانہ یا سالانہ ایک مقررہ رقم ادا کرتا ہے پھر اگر معاہدے میں مذکور کوئی حادثہ پیش آجائے تو کمپنی اس سے کہیں زیادہ رقم ادا کرتی ہے اور اگر وہ حادثہ پیش نہ آئے تو جمع شدہ رقم کے بارے میں بھی مختلف شرائط ہوتی ہیں اس معاملے میں نفع و نقصان کا معاملہ غیر یقینی ہوتا ہے اور عقد کی بنیاد ہی ایسے احتمالات پر ہوتی ہے جنہیں شریعتِ مطہرہ میں قمار و غرر کی وجہ سے ممنوع قرار دیا گیا ہے بعض انشورنس اسکیموں میں سودی معاملات بھی شامل ہوتے ہیں جو حرمت کو مزید مؤکد کر دیتے ہیں

اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں ارشاد فرماتا ہے يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (المائدۃ 90)

ترجمہ: اے ایمان والو شراب جوا بت اور پانسے ناپاک شیطانی کام ہیں سو ان سے بچو تاکہ تم فلاح پاؤ

نیز اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ (المائدۃ: 2)

ترجمہ:اور گناہ اور زیادتی کے کام میں ایک دوسرے کی مدد نہ کرو

اور حضور اقدس ﷺ نے بیعِ غرر سے منع فرمایا ہے نَهَى رَسُولُ اللهِ ﷺ عَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ

(صحیح مسلم کتاب البیوع)

لہٰذا مروجہ کمرشل انشورنس کروانا شرعاً ناجائز ہے بشرطیکہ معاملہ اختیاری ہو اور کوئی شرعی مجبوری نہ ہو

انشورنس کمپنی کا ایجنٹ بننے کا حکم

جس طرح خود مروجہ ناجائز انشورنس کا معاہدہ کرنا جائز نہیں اسی طرح کسی شخص کا ایسی کمپنی کا ایجنٹ بن کر لوگوں کو انشورنس کروانا ان کے فارم بھرنا پالیسی بنوانا اس کی ترغیب و تشہیر کرنا اور اس کام کے عوض کمیشن یا تنخواہ حاصل کرنا بھی جائز نہیں کیونکہ یہ ناجائز معاملے کے انجام دینے اور اس میں تعاون کرنے کے حکم میں ہے

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ﴾

ترجمہ:گناہ کے کام میں تعاون نہ کرو

لہٰذا سائل کے لیے بہتر اور ضروری ہے کہ انشورنس ایجنسی کا کام چھوڑ کر کوئی جائز اور حلال ذریعۂ معاش اختیار کرے رزق اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے حرام ذریعۂ آمدنی چھوڑنے والے کے لیے اللہ تعالیٰ حلال رزق کے دروازے کھولنے پر قادر ہے

اگر انشورنس لازمی ہو اگر کسی خاص قسم کی انشورنس حکومت یا قانون کی طرف سے لازمی قرار دی گئی ہو اور اس سے بچنے کی کوئی قانونی صورت نہ ہو تو ایسی صورت میں حکم اختیاری انشورنس سے مختلف ہوگا۔ تاہم اس میں بھی صرف بقدرِ ضرورت معاملہ کیا جائے گا اور اگر کوئی متبادل شرعی راستہ موجود ہو تو اسے اختیار کرنا لازم ہوگا

اسی طرح اگر کوئی اسکیم حقیقتاً تکافل (اسلامی تعاونی بیمہ) کے شرعی اصولوں کے مطابق ہو تو محض نام کی وجہ سے اسے کمرشل انشورنس پر قیاس نہیں کیا جائے گا بلکہ اس کے مکمل معاہدے اور شرائط دیکھ کر اس کا حکم بیان کیا جائے گا

خلاصۂ حکم: مروجہ کمرشل انشورنس ناجائز ہے اس کو اختیاری طور پر کروانا بھی ناجائز ہے اور ایسی انشورنس کمپنی کا ایجنٹ بن کر لوگوں کو پالیسی کروانے کے عوض کمیشن حاصل کرنا بھی ناجائز و گناہ ہے لہٰذا سائل کو چاہیے کہ اس کام سے اجتناب کرے اور حلال ذریعۂ معاش اختیار کرے

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

کتبہ: العبد خاکسار ناچیز محمد شفیق رضا رضوی خطیب و امام سنّی مسجد حضرت منصور شاہ رحمت اللہ علیہ بس اسٹاپ کشنپور فتحپور الھند

دارالافتاء: اسلامی معلومات

✔️✔️✔️ الجواب صحیح والمجیب النجیح خلیفہ حضور تاج الشریعہ و نواسہ امام علم فن مفتی خواجہ صبر نواز قادری رضوی بانی دارالعلوم فیضان امام علم فن للبنات

دار الافتاء میں اپنا شرعی سوال ارسال کریں

اپنا مسئلہ تحریر کریں، ان شاء اللہ جلد جواب دیا جائے گا

فہرستِ ابواب و کتبِ فقہ

موضوع اور زمرے کے اعتبار سے فتاویٰ کی فہرست