سنت اور حدیث کی تعریف کیا ہے نیز دونوں میں فرق کیا ہے؟



السلام علیکم ورحمتہ اللہ۔۔‌علماء کرام کی بارگاہ میں ایک عریضہ ہےمجھے حدیث اور سنت کی تعریف درکار ہے اور حدیث اور سنت میں کیا فرق ہے۔۔۔
                 الســــاٸل عبد اللہ امام باغ
*::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::*
            وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

                الجواب بعون المک الوہاب 👇

حدیث کےمعنی بات اور گفتگو کے ہیں،علامہ جوہری صحاح میں لکھتے ہیں:
‘‘اَلْحَدِیْثُ الْکَلَامُ قَلِیْلُہُ وَکَثِیْرُہُ ’’۔
حدیث بات کو کہتے ہیں خواہ وہ مختصر ہو یا مفصل۔حدیث کی اصطلاحی تعریف حضورﷺ کےاقوال ،افعال اور تقریرات کے مجموعہ کو حدیث کہتے ہیں،اقوال سے مراد آپﷺ کی زبان مبارک سے نکلےہوئے کلمات ہیں،افعال سے مراد آپﷺ کے اعضاءسے ظاہر شدہ اعمال ہیں اور تقریر سے مراد: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنےکسی صحابی نے کچھ کیا یا کہااور آپ نے اس پر سکوت فرمایا نکیر نہ کی اور اس سے یہی سمجھا گیاکہ اس عمل یا قول کی حضورﷺ نے تصدیق فرمادی ہے تو اسی تصدیق کو ‘‘تقریر’’ confirmationکہتے ہیں اور آپ کی یہ تصدیق تقریری صورت کہلاتی ہے۔جبکہ لفظِ سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے والے اُن مستقل بالذات احکام وہدایات کے لیے مستعمل ہے جن کی ابتدا قرآن سے نہیں ہوئی ہے۔ سنت کا لفظ قرآن مجید کے ساتھ دینِ اسلام کے دوسرے مستقل ماخذ (Source) کے لیے استعمال ہوتا ہے۔لغوی معنی میں فرق حدیث اور سنت،دونوں الفاظ عربی زبان میں اپنے لغوی معنی ہی کے لحاظ سے ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ حدیث کے معنی بات،قول،اور کلام کے ہیں اور یہ لغت میں جدید یعنی نئی چیز کے معنی میں بھی استعمال ہوتاہے،جبکہ سنت کے معنی پٹے ہوئے راستے،عام طریقے اور جاری وساری عمل کے ہیں

             واللہ تعالیٰ اعلم باالــــــصـــــواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــہ ناچیز محمد شفیق رضا رضوی

            اســـلامی مـــعلــومـات گـــــروپ 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے