رفع یدین کی مکمل تفصیل؟؟




           السلام علیکم ورحمةاللہ وبرکاته 

کیا فرماتے ہیں علماٸے کرام و مفتیان کرام اس مسٸلہ کے بارے میں کہ رفع یدین کی وضاحت مدلل ومفصل تحریر فرمائیں عین نوازش ہوگی 

الســــاٸل محمد دلکش رضا قادری خطیب وامام رضا جامع مسجد سلی گوڑی دارجلنگ ویسٹ بنگال

           وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎


                الجواب بعون المک الوہاب 

صورت مسؤلہ میں متعدد احادیث کریمہ سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ وسلم اور صحابہ وتابعین رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین صرف تکبیر تحریمہ کے کہتےوقت رفع یدین فرماتے تھےاسکےبعد آخر نماز تک ایسانہیں کرتے ...اس تعلق سے احادیث ملاحظہ کریں عن علقمہ قال قال عبداللہ بن مسعودالااصلی بکم صلوٰة رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فصلیٰ فلم یرفع یدیہ الافی اول مرّة قال ابوعیسیٰ حدیث ابن مسعودحدیث حسن وبہ یقول غیرواحدمن اھل العلم من اصحاب النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم والتابعین ترجمہ حضرت علقمہ نےکہاکہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے فرمایا کہ میں تمہارے سامنے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز نہ پڑھوں پس آپ نے نماز پڑھی اور صرف شروع نماز میں اپنے ہاتھوں کو اٹھایا امام ترمذی نے فرمایا کہ ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ کی حدیث حسن ہے اور بہت سے علمائے کرام و صحابہ و علما۶ تابعین یہی فرماتے ہیں کہ شروع نماز (تکبیرتحریمہ کےبعدہاتھ علاوہ)رفع یدین نہ کیا جائےترمزی شریف جلداول صفحہ 35عن البرا۶بن عازب قال کان رسول اللہ ﷺ اذاکبّرلافتتاح الصلوٰة رفع یدیہ حتیٰ یکون ابھاماہ قریبامن شحمتی اذنیہ ثم لایعودترجمہ حضرت برا۶بن عازب رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع فرمانے کے لیے تکبیر کہتے تو اپنے دست مبارک کو اٹھاتے یہاں تک حضورﷺ کے انگوٹھے کانوں کی لو کے قریب ہوجاتے پھر حضور صلی وسلم کی آخری نماز تک رفع یدین نہیں فرماتےطحاوی شریف صفحہ 110عن الاسودقال راٸت عمربن الخطاب رضی اللہ عنہ یرفع یدیہ فی اول تکبیرة ثم لایعودترجمہ حضرت اسود رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ میں نے سیدنا فاروق اعظم حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کو دیکھا کہ پہلی تکبیر میں ہاتھ اٹھاتے تھے پھر آخرنماز تک ایسا نہیں کرتے تھے یعنی ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے طحاوی شریف صفحہ 111عن مجاہدقال صلیت خلف ابن عمرفلم یکن یرفع یدیہ الافی التکبیرة الاولیٰ من الصلوٰة ترجمہ حضرت مجاہد رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے فرمایا کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما کی اقتدا میں نماز پڑھی تو وہ صرف تکبیر اولیٰ میں رفع یدین کرتے تھےطحاوی شریف صفحہ 111  ان احادیث کریمہ سے واضح طور پر معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ وسلم اور حضرت عمر فاروق اعظم حضرت عبداللہ بن مسعود حضرت ابن عمر ودیگر صحابہ اور تابعین و جلیل القدر علماء رضوان اللہ تعالی علیھم اجمعین صرف تکبیر تحریمہ کے بعد رفع یدین کرتے تھے پھر آخری نماز تک ایسا نہیں کرتے تھےانتباہ (خبردار) بعد روایتوں سے جو رکوع سے پہلے اور بعد میں رفع یدین ثابت ہے یعنی ہاتھ اٹھانا ثابت ہے تو وہ حکم پہلے تھا بعد میں منسوخ ہوگیا جیسا کہ عینی شارح بخاری نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی ہے کہ آنہ رای رجلایرفع یدیہ فی الصلوٰة عندالرکوع وعندرفع الراسہ من الرکوع فقال لہ لاتفعل فانہ شی۶ فعلہ رسول اللہﷺثم ترکہ ترجمہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک شخص کو رکوع میں جاتے ہوئے اور رکوع سے اٹھتے وقت رفع یدین کرتے ہوئے دیکھا تو آپ نے اس سے فرمایا کہ ایسا نہ کرو اس لیے کہ یہ ایسی چیز ہے کہ جس کونبی کریمﷺ نے پہلے کیا تھا پھربعدمیں چھوڑ دیا ماخوذ انوارالحدیث صفحہ 163تا165

                واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب 

           شرف قلم حضرت عبیداللہ بریلوی 

                اسلامی معلومات گروپ 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے