کیا کمیشن میں چندہ کرنا ناجائزوحرام ہے ؟؟؟


                السلام علیکم و رحمۃ اللہ برکاتہ 

کیا فرماتے ہیں علماٸے کرام و مفتیان کرام اس مسٸلہ کے بارے میں کہ ہمارے گاؤں میں ایک شخص ہے جو کہ وہ غریب طبقے سے تعلق رکھتا ہے تو وہ دوسرے مدرسے کا چندہ سال کے باروں مہینے کرتا رہتا ہے اسی سے اس کا گزر بسر ہوتا ہے تو وہ گاؤں گاؤں مسجد میں جاکر اس مدرسے کا چندہ جمع کرتا ہے اور جو مدرسے کے طرف سے اسے دیا جاتا ہے وہ راضی خوشی لے لیتا ہے لیکن زید کا کہنا ہے کہ وہ جو کرتا ہے درست نہیں اسکا کرنا ناجائزوحرام ہے تو آپ یہ بتا دیں کہ کیا زید کا قول درست ہے یا نہیں یا جو بکر کرتا ہے وہ درست ہے برائے مہربانی مکمل طور پر جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی 

الســــاٸل محمد نواز علی ساکن دسولی ضلح فتح پور الھند
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
             وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکتہ

               الجوابـــــ بعون الملکـــــ الوھاب

صورت مسئولہ میں جواب یہ ہے کہ زید کا قول درست ہے نہیں ہے جیسا کہ اسی طرح کے سوال میں فقیہ ملت تحریر فرماتے ہیں کہ مسجد کے اندر اپنی ذات کے لئے سوال کرنا درست نہیں یہاں تک کہ اپنی گمشدہ چیزیں دریافت کرنا جائزنہیںلیکن اگر کوئی دینی کام کے لئے یا کسی حاجت مند مسلمان کے لئے مانگے جس سے نمازیوں کی نماز میں خلل نہ آئے سنت سے ثابت ہے اور بلاشبہ جائز ہے ایسا ہی فتاویٰ رضویہ جلد 9 صفحہ نمبر 153 /253 پر ہے اور جو حضرات مدارس دینی کے لئے واسطے چندہ کے لئے سوال کرتے ہیں اگر چہ ان پر انکو کمیشن ملتا ہو تب بھی وہ دینی کام کے لئے سوال ہوتا ہے نہ کہ اپنی ذات کے لئے رہا کہ کمیشن پر چندہ کرنا تو یہ درست ہے اس لئے کہ وہ اجیر مشترک ہوتا ہے اسکی اجرت کام پر موقوف رہتی ہے کہ جتنا کرے گا اس کے حساب سے مزدوری کا حقدار ہوگاجیسا کہ حضور صدر الشریعہ علیہ رحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ کام میں جب وقت کی قید نہ ہو اگر چہ وہ ایک شخص ہی کام کرے یہ بھی اجیر مشترک ہے مثلاً درزی کو اپنے گھر کپڑے سینے کے لئے رکھا اور یہ پابندی نہ ہو کہ فلاں وقت سے فلاں وقت تک سیئے گا اور روزانہ یا ماہانہ اجرت دی جائے گی جبکہ جتنا کام کرے گا اس حساب سے اجرت دی جائے گی تو یہ اجیر مشترک ہے(📗بحوالہ بہار شریعت حصہ چہارم صفحہ نمبر 144)🖊اور جیسا کہ فتاویٰ شامی میں ہے الا جراء علی ضربین مشترک وخاص الاول من یعمل لا لواحد کالخیاط و نحوہ او یعمل عملاً غیر مؤقت کان استاجرہ للخیاطۃ فی بینہ غیر مقیدۃ بعدۃ کان اجیرا مشتر کا وان لم یعمل لغیرہ✒️لہذا ان سب سے ظاہر ہوتا ہے کہ چندہ کرنا درست ہے چاہے وہ کمیشن پے ہو یا پھر بنا کمیشن پے زید کا بکر کے بارے میں ایسا خیال رکھنا درست نہیں وہ اپنے قول سے توبہ کریں (📘حوالہ درالمختار مع شامی جلد 5 صفحہ نمبر 44)(حوالہ فتاویٰ فقیہ ملت جلد اول صفحہ نمبر 195/. 196)

               واللہ تعالیٰ اعلم باالــــــصـــــواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــہ ناچیز محمد شفیق رضا رضوی

             اســـلامی مـــعلــومـات گـــــروپ 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے