3.23.2020

نماز پڑھانے کا زیادہ حقدار کون ہے عالم یا حافظ


              اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎

کیا فرماتے ہیں علماٸے کرام و مفتیانِ شرع متین اس بارے میں کہ نماز کے وقت مسجد میں ایک عالمِ دین ہے اور دوسرا حافظ۔ لیکن عالمِ دین حافظ نہیں ہے۔ اور جو حافظِ قرآن ہے وہ عالمِ دین نہیں۔ حافظِ قرآن قرآنِ مجید کو ترتیل کے ساتھ پڑھتے ہیں، اس کے برعکس عالمِ دین میں یہ صلاحیت نہیں ہے۔ وقتِ امامت کون نماز پڑھاٸے گا عالمِ دین یا حافظ قرآن ؟مہربانی فرماکر مدلل جواب عنایت کریں۔ مہربانی ہوگی۔

ساٸل ایم۔ کے۔ رضا صدیقی اسمٰعیلی متعلم دارالعلوم اھلِسنت و الجماعت، ضیاٸے رضا الجامعة الاسمٰعیلیہ، مسولی شریف، ضلع بارہ بنکی، یوپی، الھند
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
          وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎

عالم دین نماز پڑھانے کا زیادہ مستحق ہےکیونکہ عالم نمازوطہارت کےمساٸل کو بخوبی جانتاہے اس لئے امامت کا مستحق عالم ہے بشرطیکہ قرآن شریف کو بطور مسنون پڑھتا ہو یعنی حروف کو مخارج سےاداکرتاہو اوراگر ان کے مخارج درست نہیں ہیں یعنی قرآن کو صحیح طریقے سے نہیں پڑھ پاتے االس قدر غلطیاں ہو رہی ہیں کہ معنی بدل جارہا ہے تو ایسی صورت میں وہ وہ شخص جو تجوید (قرات) کا زیادہ علم رکھتا ہوا امت کرے جبکہ نماز روزہ کے مسائل سے واقف ہوں.(ماخوذ بہار شریعت حصہ سوم صفحہ567(دعوت اسلامی)

کتبہ عبیداللہ بریلوی خادم التدریس مدرسہ دارارقم محمدیہ میرگنج بریلی شریف

                 اسلامی معلومات گروپ 

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ

فـہـرسـت گـــــروپ مـنـتـظـمـیـن

...
رابـطـہ کــــریـں

Whatsapp Button works on Mobile Device only