طلاق کے بعد بچے کس کے ساتھ رہینگے ماں کے یا باپ کے


السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ 

مفتی صاحب رہنمائی فرمائیں سوال۔۔۔شوہر بیوی کے طلاق ہو جانے کے بعد پھر اسکے بچوں کے اوپر کیا شرعی حکم ہوگا وہ ماں کے ساتھ رہیگا یا باپ کے ساتھ باپ کی کمائی اسکے لیے حلال ہے یا نہیں اور کیا غصے میں طلاق ہو جائیگی 

محمد اعظم رضا قادری پتہ حبیب پور الھند
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
و علیکم السلام ورحمتہ اللہ برکاتہ

الجواب بعون ملک الوھاب 

صورت مسئولہ میں بچے سات سال اور بچیاں نو سال تک بیوی کی پرورش میں رہے گی اور جب کہ اس کا اہل ہو اس کے بعد بچے شوہر کو دے دیئے جائیں گےجیسا کہ تنویر الابصار و در مختار میں ہے الحاضنة اما او غیرھا احق بہ ای بالغلام حتی یستغنی عن النساء و قدر بسبع وبہ یفتی والام احق بھا بالصغیرة حتی تحیض ای تبلغ فی ظاھر الروایة احق بھا حتی تشتھی وقدر بتسع وبہ یفتی وعن محمد ان الحکم فی الام کذالک وبہ یفتی لکثرة الفساد فوق رد المحتار جلد چہارم ص ٢٦٧/ ٢٦٨ باب الحضانة من کتاب الطلاق ٢ باپ کی کمائی اس کی اولادوں کے لئے حلال ہو گی ٣ حالت غصہ میں بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے جیسا کہ تنویر الابصار میں ہے یقع طلاق کل زوج بالغ و عاقل و لو ھازلا ( تنویر الابصار جلد چہارم ص ٤٣٨ / ٣٩ ) 

واللہ تعالی اعلم باالصواب 

کتبہ محمد انیس الرحمن حنفی رضوی بہرائچ شریف یوپی الھند

ایک تبصرہ شائع کریں

2 تبصرے

  1. جوابات
    1. جزاک اللہ خیرا کثیرا میرے پیارے محسن اللہ تعالیٰ آپکو دونوں جہان کی دولت نصیب فرمائے آمین ثم آمین یا رب العالمین بجاہ یا سیدی المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم

      حذف کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ