کیا عورت فرض نماز میں تکبیر پڑھ سکتی ہے؟




          السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ


کیا فرماتے ہیں علماٸے کرام و مفتیان کرام اس مسٸلہ کے بارے میں کہ کیا عورت فرض نماز میں تکبیر پڑھ سکتی ہے برائے مہربانی مکمل طور پر جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی ؟

     سائل : سائل محمد وارث علی جہان آباد الھند
--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
عورتوں کو اذان و اقامت کہنا مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہے اگر کہے گی تو گناہ گار ہوگی جیسا کہ حدیث شریف میں ہے کہ " قال رسول اللّٰه صلی اللّٰه تعالى عليه وسلم ليس على النساء اذان ولا إقامة ولا جمعة ولا اغتسال جمعة ولا تقدمهن امرأة ولكن تقوم فى وسطهن " اھ ( السنن الکبری للبیهقی ج 1 ص 600 ، رقم حدیث 1921 : کتاب الصلاۃ ، باب لیس علی النساء اذان و اقامة ) اور در مختار مع رد المحتار میں ہے کہ " أما النساء فيكره لهن الاذان وكذا الإقامة " اھ ( رد المحتار ج 2 ص 60 : کتاب الصلاۃ ، باب الاذان / الفتاوی الھندیة ج 1 ص 54 : کتاب الصلاۃ ، الباب الثاني في الأذان ، الفصل الأول ) اور بہار شریعت میں ہے کہ " عورتوں کو اَذان و اِقامت کہنا مکروہ تحریمی ہے ، کہیں گی گناہ گار ہوں گی اور اعادہ کی جائے ۔ عورتیں اپنی نماز ادا پڑھتی ہوں یا قضا ، اس میں اَذان و اِقامت مکروہ ہے ، اگرچہ جماعت سے پڑھیں ۔ کہ ان کی جماعت خود مکروہ ہے " اھ ( بہار شریعت ج 1 ص 466 : اذان کا بیان ) 

                 واللہ اعلم باالصواب

                  کتبـــــــــــــــــــــــــہ 

مفتی کریم اللہ رضوی صاحب قبلہ خادم التدریس دار مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی موبائل نمبر 7666456313

           اســـلامی مـــعلــومـات گـــــروپ 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے