بیوی چار بیٹے اور چار بیٹیوں میں مال کیسے تقسیم کی جا ئے؟


السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

مسئلہ:۔ کیا فرما تے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ زید کا انتقال ہو گیا زید کی بیوی چار لڑکے اور چار لڑکیاں با حیات ہیںدوکٹھا گھر کا زمین ہے کس کو کتنا ملنی چاہئے جواب عنایت فرمائیں بہت مہربانی ہوگی۔

سائل محمد شاکر رضوی جہاں آباد یو پی 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ

 الجــــــــوابــــــــــ بعون الملک الوہاب

اگر قرض ووصیت ہو تو پہلیمتوفی کے مال سے قرض و’’وصیت من الثلث‘‘ نکالا جا ئے بقیہ مال کو ۹۶؍حصہ کرکے۱۲؍ حصہ بیوی کودیدیاجائے کیونکہ بیوی کا آٹھواں حصہ ہے اولاد ہو نے کی صورت میں جیسا کہ ارشاد ربانی ’’وَلَھُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَکْتُمْ اِنْ لَّمْ یَکُنْ لَّکُمْ وَلَدٌ۔فَاِنْ کَانَ لَکُمْ وَلَدٌ فَلَھُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَکْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِیَّۃٍ تُوْصُوْنَ بِھَآ اَوْدَیْنٍ‘‘اور تمہا رے ترکہ میں عورتوں کاچو تھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو،پھر اگر تمہارے اولاد ہو، تو ان کا تمہا رے ترکہ میں سے آٹھواں، جو وصیت تم کرجاؤاور دین نکال کر۔(سورہ نساء آیت نمبر ۱۲)بقیہ۸۴؍حصہ میں ۱۴؍۱۴؍ حصہ بیٹوں کو اور ۷؍۷؍حصہ بیٹیوں کو دے دیاجائے کیوںکہ لڑکوں کا حصہ لڑکیوں کے بنسبت دو گنا ہے جیسا کہ ارشاد ربا نی ہے ’’یُوْصِیْکُمُ اللّٰہُ فِیْ اَوْلَادِ کُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ‘‘اللہ تمہیں حکم دیتا ہے تمہاری اولاد کے با رے میںبیٹے کا حصہ دو بیٹوں برابر ہے۔(کنز الایمان،سورہ نساء آیت نمبر ۱۲) 

 واللہ تعا لیٰ اعلم باالصواب 

ازقلم فقیر تاج محمد قادری واحدی اترولوی

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے