4.08.2020

کافر والدین کے لئے دعائے مغفرت کرنا کیسا ہے


                  السَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وبرکاتہ 

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ۲.کافر والدین جو کہ مر چکے ہوں اُن کی اولاد کا اس آیت کو اللہم اغفر لی ولوالدی الی آخر پڑھنا کیسا؟ برائے مہربانی جواب عنایت فرمایں عین نوازش ہوگی 

       (سائل محمد قُطب ا لدین رضوی بلرام پوری)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
            وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

             الجوابـــــ بعون الملکـــــ الوھاب 

جس شخص کے والدین کافر ہوں وہ نماز میں مشہور دعاے ماثورہ(رب اجعلنی مقیم الصلوۃ و من الخ) نہ پڑھے کیوں کہ اس دعا میں والدین کی مغفرت کا ذکر ہے اور کافر کے لیے دعاے مغفرت حرام ہے جب کہ وہ زندہ ہوں اور اگر مر گئے ہوں تو ان کے لیے دعاے مغفرت کو علما نے کفر لکھا ہے جیسا فتاوی رضویہ میں ہے کافر کے لیے دعاے مغفرت و فاتحہ خوانی کفر خالص و تکذیب قرآن عظیم ہے کما فی العالمگیریه (جلد :٢١،صفحہ نمبر :228،جدید)اور بہار شریعت میں ہے-ماں، باپ اور اساتذہ کے لیے مغفرت کی دعا حرام ہے جب کہ کافر ہوں اور مر گئے ہوں تو دعاے مغفرت کو فقہا نے کفر تک لکھا ہے ہاں اگر زندہ ہوں تو ان کے لیے ہدایت و توفيق کی دعا کرے اھ(بہار شریعت جلد حصہ 03 صفحہ نمبر 73 درود شریف کے فضائل ومسائل )

                  (واللّٰہ ورسولہ اعلم باالصواب) 

کتبہ ناچیز محمد شفیق رضا رضوی خطیب و امام سنّی مسجد حضرت منصور شاہ رحمت اللہ علیہ بس اسٹاپ کشن پور الھند

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ

فـہـرسـت گـــــروپ مـنـتـظـمـیـن

...
رابـطـہ کــــریـں

Whatsapp Button works on Mobile Device only