6.21.2020

نماز عید سے پہلے قربانی کرنا کیسا ہے؟)


                السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکا تہ

مسئلہ:۔ کیا فرما تے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ نماز عید الاضحی سے پہلے قربانی کرنا کیسا ہے؟بینوا توجروا

       المستفتی:۔اختر رضا قادری گلبرگہ شریف
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
           وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ و برکا تہ 

                  الجواب بعون المک الوہاب

دیہات میں نماز عید سے پہلے طلوع فجر کے بعدقربانی کرسکتے ہیں کوئی حرج نہیں،مگر شہر میں نماز سے پہلے قربانی کرنا جائز نہیں ہے اگر کسی نے کی تو قربانی نہ ہو گی جیسا کہ حدیث شریف میں ہے ”وَعَنِ الْبَرَآءِ قَالَ خَطَبَنَا النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم ےَوْمَ النَّحْرِ فَقَالَ اِنَّ اَوَّلَ مَا نَبْدَاُ بِہٖ فِیْ ےَوْمِنَا ھٰذَا اَنْ نُّصَلِّیَ ثُمَّ نَرْجِعَ فَنَنْحَرَ فَمَنْ فَعَلَ ذَالِکَ فَقَدْ اَصَابَ سُنَّتَنَا وَمَنْ ذَبَحَ قَبْلَ اَنْ نُّصَلِّیَ فَاِنَّمَا ھُوَ شَاۃُ لَحْمٍ عَجَّلَہُ لِاَھْلِہٖ لَےْسَ مِنَ النُّسُکِ فِیْ شَء“اور حضرت براء (رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سرکار دو عالم ﷺ نے یوم النحر (یعنی بقر عید کے دن) ہمارے سامنے خطبے میں ارشاد فرمایا کہ اس دن سب سے پہلا کام جو ہمیں کرنا چاہیے وہ یہ ہے کہ ہم (عیدالاضحی کی) نماز پڑھیں پھر گھر واپس جائیں اور قربانی کریں، لہٰذا جس آدمی نے اس طرح عمل کیا (کہ قربانی سے پہلے نماز و خطبے سے فراغت حاصل کرلی) اس نے ہماری سنت کو اختیار کیا اور جس آدمی نے نماز سے پہلے قربانی کرلی وہ قربانی نہیں ہے بلکہ وہ گوشت والی بکری ہے جسے اس نے اپنے گھروالوں کے لئے جلدی ذبح کرلیا ہے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم،مشکوٰۃ المصابیح قربانی کا بیان حدیث نمبر۱۴۰۸) اور سرکار اعلیٰ حضرت رضی اللہ عنہ تحریر فرما تے ہیں کہ شہر میں قربانی اگر چہ ساکن دہِ کی طرف سے وہ روز واول پیش از نماز عید ناجائز و نامعتبر ہے۔ اور بیرون شہر اگر چہ فنائے مصر غیر متصل بمصر ہو، اگر چہ قربانی ساکن شہر کی ہو، پیش نماز بعد طلوع فجر تاریخ دہم جائز ہے،فی الدرالمختار اول وقتہا بعد الصلٰوۃ ان ذبح فی مصرای بعد اسبق صلٰوۃ ولو قبل الخطبۃ، لکن بعد ھا احب وبعد مضی وقتہا لو لم یصلو اعلیہ العذر، ویجوز فی الغد وبعدہ قبل الصلٰوۃ لان الصلٰوۃ فی الغد تقع قضاء لااداء، زیلعی وغیرہ، و بعد طلوع فجر یوم النحر ان ان ذبح فی غیرہ والمعتبر مکان الاضحیۃ لامکان من علیہ فحیلۃ مصری ارادان یخرجھا لخارج المصر فیضحی بہا اذ ا طلع الفجر“ قربانی کا وقت نماز کے بعد ہے اگرشہر میں کرے یعنی نماز پڑھنے کے بعد اگر چہ خطبہ سے قبل ہو، لیکن خطبہ کے بعد مستحب ہے اور اگر عید کی نماز نہ پڑھیں تو نماز کا وقت گزر جانے کے بعد، اور دوسرے اور تیسرے روز نماز سے قبل کیونکہ دسرے روز عید کی نماز قضاء ہوگی نہ کہ ادا، زیلعی وغیرہ، اور اگر گاؤں میں ذبح کرنی ہو تو عید کے روز صبح طلوع ہونے کے بعد، قربانی میں ذبح کرنے کی جگہ معتبر ہے قربانی کرنے والے کی جگہ معتبرنہیں، تو شہری کے لئے جلدی قربانی کا حیلہ یہ ہے کہ وہ جانور کو شہر سے باہر لے جائے تو فجر طلوع ہونے کے بعد قربانی کرے۔اھ(درمختار کتاب الاضحیہ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۳۲) فی ردالمحتار لخارج المصرای الی مایباح فیہ القصر، قہستانی“شہر سے باہر اتنی دور لے جائے جہاں سے مسافر کیلئے قصر شروع ہوتی ہے قہستانی۔ (ردالمحتار کتاب الاضحیہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۰۲) وفیہ ''من باب صلٰوۃ المسافر'' یشرط مفارقۃ ماکان من توابع موضع الاقامۃ کربض المصر، وھو ماحول المدینۃ من بیوت ومساکن فانہ فی حکم المصر وکذا القری المتصلۃ بالربض فی الصحیح بخلاف البساطین ولو متصلہ بالبناء لانہا لیست من البلدۃ امداد، واما الفناء، وھو المکان المعد لمصالح البلد کرکض الدواب ودفن الموتٰی والقاء التراب فان اتصل بالمصر اعتبر مجاوزتہ وان انفسل بغلوۃ اومزرعۃ فل“ اور اس کے باب صلٰوۃ المسافرمیں ہے کہ قصر جائز ہوگی بشرطیکہ وہ اپنے شہر کے توابع سے نکل جائے شہر کے توابع کی مثال ڈیرے وغیرہ اور وہ شہر کے ارد گرد کے مکانات ہیں، اور شہر سے متعلق رہائش گاہیں شہر کے حکم میں ہیں، او ر یوں وہ دیہات جو شہر کے باڑوں سے متصل ہوں صحیح قول میں شہر کے حکم میں ہیں بخلاف باغات کے اگر چہ وہ عمارت سے متصل ہوں کیونکہ آبادی میں شمار نہیں، امداد الفتاوٰی، لیکن فناء شہر وہ ہے جو شہری سہولیات کے لئے بنائی گئی ہو جیسا کہ جانوروں کے باڑے اور مردے دفن کرنے اور کوڑا وغیرہ ڈالنے کی جگہ اور اگر شہر سے متصل ہوں تو ان سے گزر جانا معتبر ہوگا اور اگر شہر سے فاصلہ پر تیراندازی یا زراعت تک ہو تو وہاں سے گزر جانا ضروری نہیں اھ۔(ردالمحتار کتاب الصلٰوۃ باب صلٰوۃ المسافر داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۵۲۵/بحوالہ فتاوی رضویہ جلد ۲۰/ ص ۳۸۰/۳۷۹/ دعوت اسلامی) اور علا مہ صدر الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرما تے ہیں کہ شہر میں قربانی کی جائے تو شرط یہ ہے کہ نماز ہوچکے لہذا نماز عید سے پہلے شہر میں قربانی نہیں ہوسکتی اور دیہات میں چونکہ نماز عید نہیں ہے یہاں طلوع فجر کے بعد سے ہی قربانی ہوسکتی ہے اور دیہات میں بہتر یہ ہے کہ بعد طلوع آفتاب قربانی کی جائے اور شہر میں بہتر یہ ہے کہ عید کا خطبہ ہوچکنے کے بعد قربانی کی جائے یعنی نماز ہوچکی ہے اور ابھی خطبہ نہیں ہوا ہے اس صورت میں قربانی ہو جائے گی مگر ایسا کرنا مکروہ ہے۔ (بہار شریعت ح ۱۵/ قربا نی کا بیان)

                           واللہ اعلم بالصواب

                کتبہ فقیر تاج محمد قادری واحدی 

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ

فـہـرسـت گـــــروپ مـنـتـظـمـیـن

...
رابـطـہ کــــریـں

Whatsapp Button works on Mobile Device only