قربانی کا گوشت کون کون کھا سکتا ہے؟؟

السلام وعلیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ 

حضرت میرا ایک سوال ہے کہ قربانی کا گوشت کون کون کھا سکتا ہے کیا جس کے نام سے قربانی ہو کیا وہ بھی کھا سکتا ہے یا نہیں جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی السلام وعلیکم 

سائل؛- محمد اسمعیل ضیلع بہراءیچ یوپی
=================================================
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

الجوابـــــ بعون الملکـــــ الوھاب 

قربانی کا گوشت چاہے خود کھائے یا دوست واحباب میں تقسیم کرے، یا فقیروں کو دے دیں سب کا اختیار ہے، مسئلہ شرعیہ یہ ہے کہ مستحب تین حصے ہیں، ایک اپنا، ایک اقارب کا، ایک مساکین کا، یہ ضروری نہیں کہ سب گوشت فقیروں کو ہی دے کیونکہ گوشت اس کی ملک ہے یہ سب کچھ کر سکتا ہے جیساکہ اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں حضور فقیہ ملت حضرت علامہ مفتی جلال الدین احمد امجدی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ قربانی کا گوشت بلاشبہ کھانا جائز ہے, اللہ ورسول جل جلالہ وﷺ نے اس کے کھانے کی اجازت فرمائی ہے، ارشاد خداوندی ہے کہ (ویذکرا اسم الله فی ایام معلومات علی ما رزقھم من بھیمۃ الانعام فکلوا منہا واطعموا البانس الفقیر) اس آیت کریمہ کا خلاصہ یہ ہے کہ مخصوص دنوں میں یعنی ایام قربانی میں اللہ کے نام پر جانوروں کی قربانی کرکے ان میں سے کھاؤ، اور مصیبت زدہ محتاجوں کو کھلاؤ-" {پارہ 17 رکوع 11} اور ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ (والبدن جعلنھا لکم من شعائر اللہ لکم فیھا خیرا فاذکروا اسم اللہ علیھا صوآف فان وجبت جنوبہا فکلوا منہا واطعموا القانع والمعتر) اس آیت مبارکہ کا مطلب یہ ہے کہ قربانی کے جانور اللہ تعالیٰ کے دین کے نشانیوں میں سے ہیں، بندوں کے لئے ان میں بھلائی ہے, تو اللہ کا نام لے کر ان کو ذبح کرکے خود کھاؤ اور قناعت کرنے والے اور بھیک مانگنے والے کو بھی کھلاؤ-" {پارہ 17 رکوع 12} اور بخاری شریف جلد اول صفحه 223 میں ہے کہ (عن جابر بن عبداللہ یقول کنا لا ناکل من لحوم بدننا فوق ثلاث منی فرخص لنا النبی ﷺ فقال کلوا وتزودوا فاکلنا وتزودنا) یعنی؛- حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ قربانی کے تین دن جب تک منی میں رہتے تھے کھاتے تھے، اس کے بعد نہیں کھاتے تھے، تو نبیٔ کریم ﷺ نے ہم لوگوں کو اجازت دی کہ قربانی کا گوشت کھاؤ اور راستے کے لئے بھی رکھ لو، تو ہم نے کھایا اور راستے کے لئے بھی رکھا-" الخ [ماخوذ؛ فتاویٰ فیض الرسول جلد دوم صفحه 406 اکبر بک سیلرز لاہور]

واللہ اعلم بالصواب

کتبہ العبد فقیر محمد عمران رضا ساغر

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے