دو مسجد ہوتے ہوئے تیسری مسجد بنانا کیسا ؟



 الســـــلام علیکـم ورحمۃ اللهِ وبرکاتہ 

کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں ایک گاوں ہے جس میں دو مسجدیں پہلے سے موجود ہے بعدہ چند لوگوں نے ملکر ایک مسجد کی تعمیر کرائ اس کے بعد جمعہ بھی قائم کروادیا جبکہ جتنے لوگ اس نئ مسجد میں جمعہ پڑھتے ہیں وہ سارے لوگ با آسانی پہلے سے موجود مسجد میں جمعہ کی نماز ادا کرسکتے ہیں ایسی صورت میں اس نئ مسجد میں جمعہ قائم کرنا اور پڑھنا کیسا ہے قرآن وحدیث کی روشنی میں مدلل و مفصل جواب تحریر فرماکر شکریہ کا موقع دیں 

المستفی محمد دلکش رضؔا قادری خطیب وامام رضا جامع مسجد ماٹیگاڑا شہر سلی گوڑی ویسٹ بنگال

وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکتہ 

الجواب بعون الملک الوھاب 

جب پہلی دو مساجد میں جمعہ بآسانی ادا ہو سکتا ہے اور اہلِ گاؤں وہاں جمع ہو سکتے ہیں تونئی مسجد میں مستقل جمعہ قائم کرنا شرعاً مکروہ اور خلافِ سنت ہے

جیسا کہ علامہ ابنِ عابدین شامی رحمہ اللہ ردالمختار میں تحریر فرماتے ہیں کہ وَلَا تُكْرَّهُ تَعَدُّدُ الْجُمَعِ إِذَا ضَاقَ الْمَكَانُ وَيُكْرَهُ إِنْ لَمْ تَحْتَجْ إِلَيْهِ لِأَنَّهُ مُخَالِفٌ لِلسُّنَّةِ

ترجمہ اگر جگہ کی تنگی ہو تو متعدد جمعے مکروہ نہیں اور اگر کوئی ضرورت نہ ہو تو مکروہ ہے کیونکہ یہ سنت کے خلاف ہے (رد المحتار ج۲ ص۱۵۳)

البتہ اگر مستقبل میں آبادی بڑھ جائے پہلی مساجد میں جگہ کم پڑے یا کوئی حقیقی ضرورت سامنے آئے تب اس نئی مسجد میں جمعہ کی اجازت ہوسکتی ہے، ورنہ موجودہ صورت میں جمعہ قائم کرنا ممنوع اور ناپسندیدہ ہے

خلاصہ کلام یہ ہے کہ اس نئی مسجد میں فی الحال صرف پنج وقتہ نمازیں ہوں اور جمعہ پہلی جامع مسجد میں ادا کیا جائے

واللہ اعلم بالصواب

کتبہ العبد خاکسار ناچیز محمد شفیق رضا رضوی خطیب و امام سنّی مسجد حضرت منصور شاہ رحمت اللہ علیہ بس اسٹاپ کشنپور فتحپور الھند

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ