(سوال) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس بارے میں کہ فقہاء نے شرعاً ایک آیت کی مقدار یہ بیان فرمائی ہے کہ وہ کم از کم دو کلمات پر مشتمل ہو اور اس میں چھ حروف ہوں، جیسا کہ درمختار میں مذکور ہے:"أن فرض القراءة آية، وأن الآية عرفاً طائفة من القرآن مترجمة، أقلها ستة أحرف ولو تقديراً كلم يلد إلا إذا كانت كلمة، فالأصح عدم الصحة" (درمختار، کتاب الصلوۃ، باب صفۃ الصلوۃ، فصل فی القراءۃ، ص ٣١٣، دارالمعرفہ بیروت) اور اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمه الله نے فرمایا ہے کہ: "نماز میں ایک آیت پڑھنا فرض ہے مثلاً الحمد لله رب العالمين، اس کے ترک سے نماز نہ ہوگی، اور پوری سورۂ فاتحہ اور اس کے ساتھ تین چھوٹی آیتیں یا ایک آیت جو تین چھوٹی آیتوں کے برابر ہو، پڑھنا واجب ہے۔" (فتاویٰ رضویہ، ج ٦، ص ٣٤٧، مسئلہ ٥١٩، رضا فاؤنڈیشن لاہور) ظاہراً درمختار کی عبارت سے یہ مفہوم ہوتا ہے کہ "الحمد للّه" بقدرِ فرض آیت ہے، جبکہ اعلیٰ حضرت کی عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ "الحمد لله رب العالمين" ایک آیت ہے، تو ان دونوں اقوال میں تطبیق کس طرح ہوگی؟ فقہ حنفی کے دلائل کی روشنی میں صحیح اور راجح قول بیان فرمایا جائے۔
(جواب) دونوں اقوال ہم معنی ہیں۔ درمختار میں چھ حروف کے بارے میں جو بیان ہے وہ کامل اور دو لفظی آیت کی کم از کم مقدار کے بارے میں ہے جو قراءت کا فرض پورا کر دے، ظاہر الروایۃ میں فرض قراءت کی مقدار تو وہی ایک آیت ہے جس میں چھوٹی بڑی کی قید نہ لگائی۔ "الحمد لله" بقدرِ فرض ضرور ہے مگر اس سے فرض ادا نہ ہوگا کہ یہ مکمل آیت نہیں اور "الحمد لله" پڑھے والے کو قاری بھی نہیں کہا جاتا بخلاف ایسی آیت پڑھنے والے کہ جو دو لفظی ہو اور اس کی تلاوت میں خطاب یا خبرداری کے قصد کی تشبیہ نہ ہو جیسا کہ ثم نظر میں ہے اور اس میں پانچ ہی حروف ہیں۔ والله تعالى أعلم بالصواب
كتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی