حرام کی کمائی کمانے والے سے بچی کا رشتہ کرنا کیسا ہے

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

مفتیان کرام عرض یہ ہے کہ کیا وکیل سے اپنی لڑکی کا رشتہ کر سکتے ہیں ؟چونکہ ان کی کمائ ہمیشہ شک کے دائرے میں ہی ہوتی ہے جواب عنایت فرمائیں 

سائل محمد ج
اوید انور قادری ممبئ

وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

الجواب بعون الملک الوھاب اللہم ہدایتہ الحق والصواب 

آج کل وکالت کا مروجہ پیشہ حرام ہے 
جیساکہ حضور اعلٰی حضرت امام احمد رضا قادری بریلوی قدس سرہُ العزیز تحریر فرماتے ہیں کہ 
وکالت کا پیشہ جس طرح آج کل رائج ہے شرعاً حرام ہے 
(فتاویٰ رضویہ جلد نہم باب کتاب النکاح صفحہ نمبر 131 مطبوعہ امام احمد رضا اکیڈمی بریلی شریف ) 
والدین پر اولاد چاہے بیٹی ہو یا بیٹا اس کے تین حقوق لازم ہیں 
(1) اچھا نام رکھنا 
(2) اچھی تعلیم و تربیت 
(3)جب شادی کے قابل ہو جایئں 
تو اچھا مناسب رشتہ تلاش کرکے شادی کردینا 
موجودہ مروجہ پیشہ وکالت جب حرام ہے
 تو ایک دیندار والدین کا ایسے پیشے سے منسلک شخص سے اپنی بیٹی کی شادی کرنا کیونکر درست ہو سکتا ہے 

لہذا _______ ! ! ! 
جب تک پکا یقین اورمجرب تجربہ حاصل نہ ہو پیشہ مذکورہ سے منسلک شخص سے اپنی بیٹی کا نکاح کرنا جائز نہیں 


واللہ تعالیٰ ورسولہ اعلم 

کتبہ ---------------------------

ابوالاحسان قادری رضوی غفرلہ

اســـــلامی مـــعــلـومات گــروپ 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے