کیا مزارات اولیاء کو غسل دینا جائز ہے


*_اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎
کیا فرماتے ہیں علماٸے کرام و مفتیان کرام اس مسٸلہ ذیل کے بارٸے میں کہ مزارات اولیإ کو غسل دینا کیسا ہے
بحوالہ۔جواب عنایت فرماکر شکریہ کا موقع عنایت کریں

_الســاٸل۔محـــمد قمـــرالدین قـــادری بمقام گیناپور ضلــــــع بہراٸچ شـــــــریف یوپی_

وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

الجواب اللھم ھدایۃ الحق الصواب


مزارات اولیاءکوغسل دینا جائز ہے اور اگر وقت متعین کیا جائے تو بھی جائز ہے

🖊جیساکہ حضرت علامہ مفتی منیب الرحمن صاحب قبلہ تحریرفرماتےہیں
کہ مزارات کوغسل دینےکیلئے دن یاوقت کاتعین بھی عرفی ہےلوگوں کی اپنی سہولت اورصوابدیدپرمنحصرہےلہذاعرس کی تقریبات کےآغازپریاآخری دن غسل دینادونوں ہی درست ہیں اوراس میں کوئی شرعی قباحت اورحرج نہیں ہےویسےمزارات کوغسل دیناکوئی شرعی ضرورت نہیں ہےتاہم اس کی حکمت یہ ہوسکتی ہےکہ کثیرتعدادمیں لوگ بزرگان دین کےمزارات پرایصال ثواب اوراظہارعقیدت کیلئےآتےہیں
لہذامزار اوراس سےملحق جگہ کاصاف ستھراہونااچھی بات ہےاوراس میں کوئی شرعی قباحت نہیں ہےاوراس کی اصل غسل کعبہ ہےمزارکوعرس کےآغاز پرغسل دیاجائےیااختتام پردونوں کی حیثیت یکساں ہے
تفہیم المسائل جلد5صفحہ 458

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

کتبہ
محمدافسررضاحشمتی سعدی عفی عنہ


اســـــلامی مـــعــلـومات گــروپ 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے