۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان ذوی الاحترام رمضان کے آخری جمعہ کو جمعتہ الوداع کے نام سے کس نے منسوب کیا ؟ الوداع کی نماز فرض واجب سنت کیا ہے؟ جبکہ جمعہ فرض ہے اور یہ بھی کہ الوداع عوام الناس کے زبان ہیں اور خوب اہتمام کیا کرتے ہیں عندالشرع قرآن وحدیث کی روشنی میں وضاحت فرمائیں
المستفتی :محمد زاہد القادری۔ کرناٹک
جمعۃ الوداع رمضان شریف کے آخری جمعہ کو کہنے لگے ہیں۔ یہ کوئی اسلامی تہوار نہیں ہے۔ رمضان کے جمعوں کی طرح یہ بھی صرف ایک جمعہ ہے۔ قرآن و حدیث میں اس کی الگ سے کوئی خصوصیت یا فضیلت نہیں آئی ہے، چونکہ یہ رمضان شریف کا آخری جمعہ ہے اس لیے اس کو جمعۃ الوداع کہنے لگے۔ الوداع کے معنی رخصتی کے ہیں یعنی اب رمضان کا مہینہ رخصت ہونے والا ہے، اس لیے اس کو جمعۃ الوداع کہنے لگے۔ آج کے حالات کو سامنے رکھتے ہوئے یہ بہتر ہے کہ اس دن کوئی ایسا کام یا ایسی کوئی بات نہ کی جائے جس سے لوگ اس جمعہ کی الگ سے کوئی خصوصیت سمجھیں۔
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے بھی "فتاویٰ رضویہ جدید"، جلد 8، صفحہ 455 پر یہی لکھا ہے۔
الوداع نہ کہہ کر اس کو صرف جمعہ کا نام ہی دیا جائے تو زیادہ اچھا ہے۔ اور اس کے خطبے میں وہی پڑھنا فرض، واجب یا سنت ہے جو دوسرے جمعوں کے خطبوں میں ہے۔ کسی سال ایسا ہوتا ہے کہ رمضان کی 30 تاریخ جمعہ کے دن پڑ رہی ہو تو کافی لوگ یہ پوچھتے ہیں کہ الوداع کون سا جمعہ ہوگا؟ کیونکہ اگر چاند 29 کو ہو گیا تو رمضان سے آگے ہو جائیں گے۔ اس طرح کا سوال پوچھنے والے سب ان پڑھ اور بے علم لوگ ہوتے ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ جب اس جمعہ کی کوئی خصوصیت اسلام میں ہے ہی نہیں تو اس کے بارے میں پوچھنے کی کیا ضرورت ہے؟
📚 (رمضان کا تحفہ، صفحہ 40)
— از:مولانا تطہیر احمد رضوی بریلوی
پیشکش: ابوضیا غلام رسول سعدی کٹیہاری مقیم حال بلگام کرناٹک ٢٠/ رمضان المبارک ١٤٤٧ھ،
