یہ کہنا اللہ نے چاہا تو یہ کام ضرور ہوگا تو کیا حکم ہے



مسئلہ 
 کچھ لوگ کہتے ہیں الله نے چاہا اور اس کے حبیب نے چاہا تو یہ کام ہمارا ہو جائے گا کیا ایسا کہنا درست ہے

(جواب) اس طرح کہنا چاہیے الله نے پھر اس کے حبیب نے چاہا تو یہ زیادہ مناسب ہے اور جیسا سوال میں مذکور ویسا کہنا بھی حرام یا شرک نہیں ہے نہ ہی مکروہ ہے حذیفہ رضی الله عنه سے مروی ہے 

رجلا من المسلمين رأى في النوم أنه لقي رجلا من أهل الكتاب فقال نعم القوم أنتم لولا أنكم تشركون تقولون: ما شاء الله وشاء محمد، وذكر ذلك للنبي ﷺ  فقال أماوالله إن كنت لأعرفها لكم قولوا: ما شاء الله ثم شاء محمد 

یعنی ایک مسلمان شخص نے خواب میں ایک کتابی کو دیکھا اُس نے کہا تم بہترین قوم ہو اگر تم شرک نہ کرتے تم کہتے ہو جو الله نے چاہا اور جو محمد ﷺ نے چاہا اس نے یہ بات نبی کریم ﷺ سے ذکر کی تو آپ ﷺ نے فرمایا والله تمہاری اس بات پر مجھے بھی خیال گزرتا تھا یوں کہا کرو جو الله نے چاہا پھر جو محمد ﷺ نے چاہا

(سنن ابن ماجه م: ٢١١٨ مسند أحمد م ٢٣٣٣٩) 

اس حدیث سے علم ہوا کہ پہلے ایسا کہنا صحابہ کرام کا معمول تھا اور منع فرمانا لیے تھا کہ اہل کتاب وہم کا شکار نہ ہوں قرآن مجید میں بھی الله ورسول کا ذکع ذکر ایک ساتھ آیا ہے 

وَمَا نَقَمُوْۤا اِلَّاۤ اَنْ اَغْنٰىهُمُ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ مِنْ فَضْلِهٖۚ (التوبة ٧٤)

اور انہیں (ان کفار کو) کیا برا لگا یہی نہ کہ الله ورسول نے انہیں اپنے فضل سے غنی کردیا

والله تعالي أعلم بالصواب 

كتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ