خالہ کی بڑی بیٹی کو شہوت کے ساتھ چھوا تو کیا اسکی چھوٹی بہن سے نکاح کر سکتے ہے



السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

حضرت آپ کی بارگاہ میں ایک سوال ہے کہ زید اپنی خالہ کی بڑی بیٹی کو شہوت کے ساتھ چھوا تو زید اپنی خالہ کی چھوٹی بیٹی سے نکاح کر سکتاہے یا نہیں ؟

محمد ابوالکلام بنارس

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب

زید اپنی خالہ کی بیٹی کو شہوت سے چھونے کی وجہ سے گنہگار ہوئےلہذا زید اپنے اس غلطی کی وجہ سے اللہ رب العزت کے بارگاہ میں سچے دل سے توبہ کرے۔اور اس کی چھوٹی بہن یا اسی سے یعنی جسے چھوا ہے اس سے نکاح کر سکتا ہے کیونکہ خالہ کی بیٹیاں محرمات میں سے نہیں۔اور اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ وَ اُحِلَّ لَكُمْ مَّا وَرَآءَ ذٰلِكُمْ۔ترجمہ کنزالایمان:- اور اُن کے سوا جو رہیں وہ تمہیں حلال ہیں۔یعنی جن عورتوں سے نکاح حرام ہے ان کے علاوہ تمام عورتوں سے نکاح حلال ہے۔ لیکن یہ یاد رہے کہ مزید کچھ عورتیں ایسی ہیں کہ جن کا ذکر مذکورہ بالا آیات میں اگرچہ نہیں مگر ان سے نکاح حرام ہے جیسے چار عورتوں کے نکاح میں ہوتے ہوئے پانچویں سے نکاح مُشرکہ عورت سے نکاح تین طلاقیں دینے کے بعد حلالہ سے پہلے اسی عورت سے دوبارہ نکاح اسی طرح پھوپھی بھتیجی خالہ بھانجی کو ایک شخص کے نکاح میں جمع کرنا یونہی طلاق یا وفات کی عدت میں نکاح کرنا حرام ہے البتہ ان سے ہمیشہ کے لئے نکاح حرام نہیں  نکاح میں جو رکاوٹ ہے وہ ختم ہونے کے بعد ان سے نکاح ہو سکتا ہے۔(سورہ نساء آیت نمبر ۲۴)


واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب


از قلم فقیر محمد اشفاق عطاری خادم دار الافتاء سنی شرعی بورڈ آف نیپال ۰۶ ربیع الغوث ۱۴۴۲ ہجری ۲۳ نومبر ۲۰۲۰ عیسوی بروز اتوار 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے