(جواب) اگر یہ شخص قتل کے بعد توبہ کرچکا ہے اور دینی اعتبار سے اس کی توبہ قبول ہوچکی ہے نیز اس کی دیانت اور تقوی میں کوئی خرابی نظر نہیں آتی تو اس کے پیچھے امامت کرنا جائز ہے تاہم اگر مقتدیوں کے دلوں میں نفرت یا کراہت ہو اور جماعت میں اختلاف پیدا ہو رہا ہو تو بہتر ہے کہ فتنہ سے بچنے کے لیے کسی اور کو امام مقرر کیا جائے امامت کے لیے ایسی شخصیت کا ہونا بہتر ہے جو مقتدیوں میں مقبول ہو اور ان کے دلوں میں کسی قسم کی کراہت یا نفرت پیدا نہ کرے حدیث نبوی ﷺ میں ہے
ثلاثة لا يقبل الله منهم صلاة من تقدم قوما وهم له كارهون ورجل أتى الصلاة دبارا ورجل اعتبد محرره
سنن ابی داود م ٥٩٣ سنن ابن ماجہ م ٩٧٠ عن عبد الله بن عمرو)
تین شخص ہیں جن کی نماز الله قبول نہیں کرتا ان میں ایک وہ جو لوگوں کی امامت کرے جبکہ وہ اسے ناپسند کرتے ہوں
امام ترمذی ابو امامہ باہلی رضی الله عنهما سے مرفوعا روایت کرتے ہیں
ثلاثة لا تجاوز صلاتهم آذانهم العبد الآبق حتى يرجع وامرأة باتت وزوجها عليها ساخط وإمام قوم وهم له كارهون
(سنن الترمذي م: ٣٦٠)
یعنی تین لوگوں کی نماز ان کے کانوں سے اوپر نہیں جاتی ان میں ایک وہ امام ہے جو ایسی قوم کی امامت کرے جو اسے ناپسند کرتے ہوں
اور ابن ماجہ ابن عباس رضی الله عنهما سے حدیث روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا
لا ترفع صلاتهم فوق رءوسهم شبرا رجل أم قوما وهم له كارهون وامرأة باتت وزوجها عليها ساخط وأخوان متصارمان (سنن ابن ماجه، م: ٩٧١)
یعنی ان کی نماز ان کے سروں سے ایک بالشت بھی اوپر نہیں اٹھتی ان میں ایک وہ شخص ہے جو ایسی قوم کی امامت کرے جو اسے ناپسند کرتے ہوں
قال الإمام الترمذي: وقد كره قوم من أهل العلم: أن يؤم الرجل قوما وهم له كارهون فإذا كان الإمام غير ظالم فإنما الإثم على من كرهه وقال أحمد وإسحاق في هذا: إذا كره واحد أو اثنان أو ثلاثة فلا بأس أن يصلي بهم حتى يكرهه أكثر القوم (م: ٣٥٨)
اہل علم کی ایک قوم نے اس بات کو ناپسند کیا ہے کہ کوئی شخص ایسی قوم کی امامت کرے جو اسے ناپسند کرتے ہوں لیکن اگر امام ظالم نہ ہو تو گناہ ان لوگوں پر ہوگا جو اسے ناپسند کرتے ہیں امام احمد اور اسحاق نے اس بارے میں فرمایا اگر ایک دو یا تین افراد امام کو ناپسند کریں تو اس کے لیے ان کی امامت میں کوئی حرج نہیں البتہ جب زیادہ لوگ اسے ناپسند کریں تو پھر امامت مناسب نہیں
در مختار (ص: ٧٧) میں ہے
ولو أم قوما وهم له كارهون إن) الكراهة (لفساد فيه أو لانهم أحق بالامامة منه كره) له ذلك تحريما لحديث أبي داود لا يقبل الله صلاة من تقدم قوما وهم له كارهون
اگر کسی شخص نے ایسی قوم کی امامت کی جو اسے ناپسند کرتے ہوں اور یہ ناپسندیدگی اس میں کسی خرابی کی وجہ سے ہو یا اس لیے کہ وہ امامت کے زیادہ حق دار ہیں تو اس کے لیے امامت کرنا مکروہ تحریمی ہے کیونکہ حدیثِ ابو داود میں آیا ہے کہ الله اس شخص کی نماز قبول نہیں کرتا جو ایسی قوم کی امامت کرے جو اس سے ناپسندیدگی رکھتے ہوں
والله تعالى أعلم بالصواب
کتبہ ندیم ابن علیم المصبور العینی ممبئی مہاراشٹر انڈیا
