مسجد میں ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ میں ڈالنا ؟


 مسجد میں ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ میں ڈالنا


(سوال) ایک مسئلہ معلوم کرنا ہے: ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ میں ڈالنا کیسا ہے، چاہے مسجد میں ہو یا مسجد کے علاوہ؟

(جواب) امام اگر وعظ میں کسی چیز کو سمجھانے کے لیے ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ ڈالے جسے تشبیک کہتے ہیں تو جائز ہے۔ ورنہ اس کے اور مقتدیوں کے لیے ایسا کرنا مکروہ ہے کہ یہ خشوع و خضوع کے خلاف ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ﺇﺫا ﺗﻮﺿﺄ ﺃﺣﺪﻛﻢ ﻓﺄﺣﺴﻦ ﻭﺿﻮءﻩ ﺛﻢ ﺧﺮﺝ ﻋﺎﻣﺪا ﺇﻟﻰ اﻟﻤﺴﺠﺪ ﻓﻼ ﻳﺸﺒﻜﻦ ﻳﺪﻳﻪ ﻓﺈﻧﻪ ﻓﻲ ﺻﻼﺓ. (سنن ابو داود، م: ٥٦٢؛ سنن الترمذی، م: ٣٨٦) یعنی تم میں سے کوئی جب وضو کرے تو اچھا کرے پھر مسجد کے ارادے سے نکلے تو انگلیوں میں انگلیاں نہ ڈالے کیونکہ وہ نماز میں ہے

قال الإمام العيني رحمه الله: ﻭﻗﺪ ﻳﻔﻌﻠﻪ ﺑﻌﺾ اﻟﻨﺎﺱ ﻋﺒﺜﺎ، ﻭﺑﻌﻀﻬﻢ ﻟﻴﻔﺮﻗﻊ ﺃﺻﺎﺑﻌﻪ ﻋﻨﺪﻣﺎ ﻳﺠﺪ ﻣﻦ اﻟﺘﻤﺪﺩ ﻓﻴﻬﺎ ﻭﺭﺑﻤﺎ ﻗﻌﺪ اﻹﻧﺴﺎﻥ ﻓﺸﺘﻚ ﺑﻴﻦ ﺃﺻﺎﺑﻌﻪ، اﺣﺘﺒﻰ ﺑﻴﺪﻳﻪ، ﻳﺮﻳﺪ ﺑﻪ اﻻﺳﺘﺮاﺣﺔ ﻭﺭﺑﻤﺎ اﺳﺘﺠﻠﺐ ﺑﻪ اﻟﻨﻮﻡ ﻓﻴﻜﻮﻥ ﺫﻟﻚ ﺳﺒﺒﺎ ﻻﻧﺘﻘﺎﺽ ﻃﻬﺮﻩ ﻓﻘﻴﻞ ﻟﻤﻦ ﺗﻄﻬﺮ ﻭﺧﺮﺝ ﻣﺘﻮﺟﻬﺎ ﺇﻟﻰ اﻟﺼﻼﺓ: ﻻ ﺗﺸﺒﻚ ﺑﻴﻦ ﺃﺻﺎﺑﻌﻚ ﻷﻥ ﺟﻤﻴﻊ ﻣﺎ ﺫﻛﺮﻧﺎﻩ ﻣﻦ ﻫﺬﻩ اﻟﻮﺟﻮﻩ ﻋﻠﻰ اﺧﺘﻼﻓﻬﺎ ﻻ ﻳﻼﺋﻢ ﺷﻲ ﻣﻨﻬﺎ اﻟﺼﻼﺓ ﻭﻻ ﻳﺸﺎﻛﻞ ﺣﺎﻝ اﻟﻤﺼﻠﻲ ﻗﻮﻟﻪ ﻓﺈﻧﻪ ﻓﻲ ﺻﻼﺓ ﺃﻱ ﻓﻲ ﺣﻜﻢ ﺻﻼﺓ، ﻷﻥ ﻣﺎ ﻗﺮﺏ ﺇﻟﻰ اﻟﺸﻲء ﻳﺄﺧﺬ ﺣﻜﻤﻪ. (شرح أبى داود، ٤٦/٣) یعنی بعض لوگ ایسا بے وجہ کرتے ہیں جبکہ بعض اس وقت انجام دیتے ہیں جب انگلیوں میں تناؤ محسوس ہو اور وہ انہیں کھولنا چاہیں بعض اوقات آدمی بیٹھتے ہوئے اپنی انگلیوں کو ایک دوسرے میں ڈال لیتا ہے یا دونوں ہاتھوں سے گھٹنوں کو گھیر کر سہارا لیتا ہے تاکہ سکون حاصل کرے اور کبھی نیند لانے کے لیے بھی ایسا کرتا ہے جو اس کے وضو کے ٹوٹنے کا سبب بن سکتا ہے پس جو شخص وضو کرکے نماز کی نیت سے نکلا ہو اسے کہا گیا اپنی انگلیوں کو باہم نہ جکڑو کیونکہ مذکورہ تمام وجوہات چاہے مختلف پہلوؤں سے ہوں نماز کے وقار اور خشوع کے منافی ہیں اور نمازی کے حال کے لائق نہیں کیونکہ وہ نماز میں ہے یعنی نماز کے حکم میں ہے کیونکہ جو چیز کسی شے کے قریب ہو، وہ اس کے حکم میں آ جاتی ہے والله تعالی أعلم


كتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ