زکوۃ کے مال سے کسی کا قرض ادا کرنا کیسا ؟


 (مسئلہ) ایک شخص کو وکالت کا مکمل اختیار حاصل ہے، اب زکاۃ کا مال مدرسے کے لیے آ رہا ہے اور میں اس مال سے مدرسین کا قرض کم کر رہا ہوں۔ کیا یہ قرض کم کرنا میرے لیے جائز ہے؟

(جواب) زکاۃ کے مال کو صرف مستحقین زکوۃ پر ہی خرچ کرنا لازم ہے, مساجد ومدرسہ کی تعمیر اور ان کے انتظامات میں روپیہ دینے سے زکوۃ ادا نہیں ہوتی۔ اگر مدرسین زکوۃ کے مستحق ہیں یعنی شرعا فقیر ہیں اور انہیں رقم ملکیتاً دی جا رہی ہے، پھر وہ اپنی مرضی سے قرض کی ادائیگی کے لیے اسے استعمال کرتے ہیں، تو یہ جائز ہے۔ اور اگر وہ صاف اجازت دیں اور زکوۃ دینے والا اس کی طرف سے ادا کردے تب بھی اس کی زکوۃ ادا ہوجائے گی۔ في الفتاوي الولواجية (٣٧٠/١): ولا يجوز الحج والعتق وبناء المسجد من زكاة ماله؛ لأنهم مأمورون بالإيتاء للفقير، وهو عبارة عن التمليك من الفقير، ولم يوجد، وإن ملك المال من الحاج ليحج عن نفسه دون المحلل جاز لوجود التمليك من الفقير، ولو قضى دين فقير بأمره جاز عن ماله؛ لأن صاحب الدين يصير قابضاً للفقير أولاً فيحصل التمليك من الفقير ولو تصدق بماله على الذي هو عليه دين، وهو فقير جاز عن ذلك الدين، ولم يجز عن العين لأن في الوجه الأول : أدى الناقص ؛ عن الناقص ؛ وفي الوجه الثاني : أدى الناقص عن الكامل، فلا يجوز، ولو قبض الدين، ثم أعطاه جاز عن الدين والعين لأنه أدى الكامل عن الناقص والكامل جميعاً، ولا يعطي فقيراً مائتي درهم عن زكاة ماله، ولو أعطاه لجاز دفعة واحدة عن الزكاة. یعنی اپنے اپنے مال کی زکاۃ سے حج، غلام آزاد کرنا اور مسجد بنانا جائز نہیں کیونکہ زکاۃ کے مال کو فقیر کو دینے کا حکم دیا گیا ہے اور دینا فقیر کو مالک بنانے کا نام ہے جو ان صورتوں میں نہیں پایا جاتا ہاں اگر کسی حاجی کو اس شرط پر زکاۃ دی جائے کہ وہ اپنے لیے حج کرے تو جائز ہوگا کیونکہ اس میں فقیر کو مالک بنانا پایا گیا اگر فقیر کے حکم سے اس کا قرض ادا کر دیا جائے تو زکاۃ ادا ہو جائے گی کیونکہ قرض خواہ پہلے فقیر کی طرف سے قابض بن جاتا ہےاس طرح فقیر کو مالک بنانا پایا گیا۔ اگر کوئی اپنے زکاۃ کے مال سے اس شخص کو صدقہ دے جس پر اس کا قرض ہے اور وہ فقیر بھی ہو تو یہ اس کے قرض کی ادائیگی میں شمار ہوگا لیکن قرض کی اصل رقم میں شمار نہیں ہوگا۔ پہلی صورت میں ناقص کا ناقص سے بدل پایا جاتا ہے جبکہ دوسری صورت میں ناقص کو کامل کے بدلے میں ادا کیا جا رہا ہے جو جائز نہیں اگر فقیر پہلے قرض وصول کر لے، پھر وہی رقم زکات کے طور پر دی جائے تو یہ قرض اور اصل رقم دونوں میں شمار ہوگی، کیونکہ اس نے کامل کو ناقص کے بدلے میں ادا کیا ہے وفي الفتاوى الهندية (٢٠٩/١): ولو قضى دين الفقير بزكاة ماله: إن كان بأمره يجوز، وإن كان بغير أمره لا يجوز، وسقط الدين. والله تعالى أعلم 

كتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی

🟢 واٹس ایپ
✍️ اس مسئلہ سے متعلق مزید سوال پوچھیں:
✕

🕌 اوقاتِ نماز

اپنے شہر کے اوقات حاصل کرنے کے لیے بٹن دبائیں:
نمازشروع وقتکیفیت
فجر04:45 AMصبح صادق
طلوعِ آفتاب06:05 AMنماز منع ہے
ظہر12:20 PMزوال کے بعد
عصر (حنفی)04:40 PMمثلِ ثانی
مغرب06:30 PMغروبِ آفتاب
عشاء07:55 PMشفق کے بعد
✕

🧭 سمتِ قبلہ (خانہ کعبہ کا اصل رخ)

شمال (North 0°) سے کعبہ شریف کی اصل ڈگری:
272° مغرب
مقام: برصغیر / بھارت (عین کعبہ بیرنگ)
N (شمال)
S (جنوب)
E (مشرق)
W (مغرب)
طریقہ: اپنے موبائل کو شمال (North) کی سمت سیدھا کریں۔ ہری سوئی قبلہ شریف (مغرب) کی طرف رخ کرے گی۔
✕

🧮 شرعی زکوٰۃ کیلکولیٹر

✕

📿 ڈیجیٹل تسبیح

0