عورت بیک وقت چار شادیاں کیوں نہیں کرسکتی؟
(سوال) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مرد ایک وقت میں چار عورتوں سے نکاح کرسکتا ہے لیکن عورت ایک وقت میں چار مردوں سے کیوں نکاح نہیں کرسکتی؟
(جواب) شریعتِ مطہرہ نے مرد کو خاص شرائط کے ساتھ بیک وقت چار عورتوں تک نکاح کی اجازت دی ہے جیسا کہ الله تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَىٰ وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ فَاِنۡ خِفۡتُمۡ اَلَّا تَعۡدِلُوۡا فَوَاحِدَۃً اَوۡ مَا مَلَکَتۡ اَیۡمَانُکُمۡ ؕ ذٰلِکَ اَدۡنٰۤی اَلَّا تَعُوۡلُوۡا﴾ (القرآن الکریم ٤/٣) یعنی نکاح میں لاؤ جو عورتیں تمہیں خوش آئیں دو دو اور تین تین اور چار چار پھر اگر ڈرو کہ دو بیبیوں کو برابر نہ رکھ سکو گے تو ایک ہی کرو یا کنیزیں جن کے تم مالک ہو یہ اس سے زیادہ قریب ہے کہ تم سے ظلم نہ ہو لیکن عورت کو ایک وقت میں ایک سے زائد شوہروں کی اجازت نہیں دی گئی اس کی کئی حکمتیں ہیں۔ پہلی حکمت نسب اور اولاد کی حقوق کی حفاظت ہے کیونکہ اگر ایک عورت کے کئی شوہر ہوں تو اولاد کا حقیقی باپ متعین کرنا مشکل ہوجائے گا پھر اس بچہ کی نان نفقہ حقوق وراثت اور دیگر حقوق کی ذمہ داری لینے میں نزاع ہوگا نعیمی رحمة الله عليه نور العرفان میں ہے ایک عورت کو چند خاوند رکھنے کی اجازت نہیں کیونکہ اس سے بچہ کی نسل مشتبہ ہوجاوے گی خبر نہ ہوگی کہ یہ بچہ کس کا ہے کون پرورش کرے دوسری حکمت یہ ہے کہ مردوں کی تعداد جنگ وجدل میں قتل ہونے کے سبب کم ہوجاتی ہے اور قید میں آئی ہوئی عورتیں، عورتوں کی مجموعی تعداد میں اضافہ کرتی ہیں اس لیے معاشرتی ضرورت کے تحت بعض مردوں کا ایک سے زائد سے نکاح کرنا ضروری ہوجاتا ہے تاکہ عورتوں کی کفالت حفاظت اور عفت کا انتظام ہوسکے تیسری حکمت یہ کہ عورت طبعی طور پر حمل ولادت نفاس اور ایامِ حیض جیسے مراحل سے گزرتی ہے جن میں وہ جسمانی اور نفسیاتی طور پر کمزور ہوجاتی ہے ایسے حالات میں ایک ہی شوہر کے حقوق کی ادائیگی دشوار ہوجاتی ہے چہ جائیکہ بیک وقت کئی شوہروں کے حقوق ادا کرے اگر ایک عورت کے متعدد شوہر ہوں تو ان کے باہمی حقوق ازدواجی تعلقات اور گھریلو نظام میں شدید بے اعتدالی اور فساد پیدا ہوگا ان کے علاوہ بھی متعدد حکمتیں ہیں، مگر اختصار کے پیشِ نظر انہی دو پر اکتفا کیا گیا۔ والله تعالى أعلم بالصواب
⚡⚡⚡⚡
كتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی
