جوا کھیلنا عند الشرع کیسا ہے



*_اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎_*

*سوال* کیا فرماتے ہیں علماٸے کرام و مفتیان کرام اس مسٸلہ ذیل کے بارٸے میں کہ جوا کھیلنے والوں کے لٸے کیا حکم ہے؟
2)زید کا کہنا ہے کہ جس نے جوا کھیلا مثلا اس نے اپنی ماں کے ساتھ زنا کیا کیا زید کی بات درست ہے یا نہیں؟ جواب عنایت فرماکر شکریہ کا موقع عنایت کریں. 
*الساٸل* ۔محـــمد قمـــرالدین قـــادری بمقام گیناپور ضلــــــع بہراٸچ شـــــــریف یوپی
✒✒✒✒✒✒✒✒✒✒✒✒
*وعلیکم السلام و رحمتہ اللہ و برکاتہ*
*الجواب بعون الملک الوہاب ھو الھادی الی الصواب* جوا کھیلنا گناہ کبیرہ و ناجائز و حرام ہے متعدد آیت کریمہ و احادیث نبویہ میں اس کی وعید یں موجود ہیں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جوا کے بارے میں سوال کیا گیا تو محبوب کی طرف سے رب تعالی نے جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا *يَسۡــئَلُوۡنَكَ عَنِ الۡخَمۡرِ وَالۡمَيۡسِرِ‌ؕ قُلۡ فِيۡهِمَآ اِثۡمٌ کَبِيۡرٌ وَّمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَاِثۡمُهُمَآ اَکۡبَرُ مِنۡ نَّفۡعِهِمَا ؕ وَيَسۡــئَلُوۡنَكَ مَاذَا يُنْفِقُونَ قُلِ الۡعَفۡوَ‌ؕ كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَـكُمُ الۡاٰيٰتِ لَعَلَّکُمۡ تَتَفَكَّرُوۡنَۙ*
*ترجمہ کنزالایمان:* تم سے شراب اور جوئے کا جو حکم پوچھتے ہیں۔ تم فرمادو کہ ان دونوں میں بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے کچھ دنیاوی نفع بھی اور ان کا گناہ ان کے نفع سے بڑا ہے۔ *(سورہ البقرہ آیت نمبر 219)*
🖊دوسری جگہ ارشاد باری ہے. *يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنَّمَا الۡخَمۡرُ وَالۡمَيۡسِرُ وَالۡاَنۡصَابُ وَالۡاَزۡلَامُ رِجۡسٌ مِّنۡ عَمَلِ الشَّيۡطٰنِ فَاجۡتَنِبُوۡهُ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ اِنَّمَا يُرِيۡدُ الشَّيۡطٰنُ اَنۡ يُّوۡقِعَ بَيۡنَكُمُ الۡعَدَاوَةَ وَالۡبَغۡضَآءَ فِى الۡخَمۡرِ وَالۡمَيۡسِرِ وَيَصُدَّكُمۡ عَنۡ ذِكۡرِ اللّٰهِ وَعَنِ الصَّلٰوةِ‌ ۚ فَهَلۡ اَنۡـتُمۡ مُّنۡتَهُوۡنَ*
*ترجمہ کنزالایمان:* اے ایمان والو! شراب اور جوا اور بت اور پانسے ناپاک ہی ہیں۔ شیطانی کام تو ان سے بچتے رہنا کہ تم فلاح پائو۔ شیطان یہی چاہتا ہے کہ تم میں بیر اور دشمنی ڈلوادے۔ شراب اور جوئے میں اور تمہیں ﷲ عزوجل کی یاد اور نماز سے روکے تو کیا تم باز آئے؟ *(سورۃ المائدۃ کی آیت نمبر 90 /91)*
🖊نیز فرماتا ہے *وَلَا تَاۡكُلُوۡٓا اَمۡوَالَـكُمۡ بَيۡنَكُمۡ بِالۡبَاطِلِ وَتُدۡلُوۡا بِهَآ اِلَى الۡحُـکَّامِ لِتَاۡکُلُوۡا فَرِيۡقًا مِّنۡ اَمۡوَالِ النَّاسِ بِالۡاِثۡمِ وَاَنۡـتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ*
*ترجمہ کنزالایمان:* آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھائو۔ *(بقرہ 188)*
🖊صدر الافاضل مفتی سید محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ الرحمہ خزائن العرفان میں اس آیت کے تحت فرماتے ہیں کہ "باطل طور پر کسی کا مال کھانا حرام فرمایا گیا۔ خواہ لوٹ کر یا چھین کر یا چوری سے یا جوئے سے یا حرام تماشوں یا حرام کاموں یا حرام چیزوں کے بدلے یا رشوت یا جھوٹی گواہی یا چغل خوری سے یہ سب ممنوع اور حرام ہے۔
🖊حدیث شریف میں ہے کہ حضور نبی کریم رؤف الرحیم ﷺ نے ارشاد فرمایا جس نے جوا کھیلنے کے سامان سے جوا کھیلا تو گویا اس نے اپنا ہاتھ خنزیر کے گوشت اور خون میں ڈبودیا۔ *(سنن ابن ماجہ، ج 1، ص 231، حدیث 3863)*
🖊ان تمام عبارت سے ظاہر ہے کہ جوا کھیلنا ناجائز وحرام ہے اور کھیلنا والا گناہ کبیرہ کا مرتکب ہے اس پر تو بہ لازم ہے اگر اعلانیہ کھیلتا ہے تو اعلانیہ ورنہ خفیہ.
🖊اس طرح کی حدیث میری نظر سے نہ گزری. 
      
                 واللہ اعلم باالصواب

کتبـــــــــــــــــــــــــہ خاکسار ناچیز محمد شفیق رضا رضوی

                       اسلامی معلومات گروپ 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے