قبرستان کی زمین پر مسجد قائم کرنا کیسا ہے


     السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
  
      ســـــــــــــــــــوال۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مثلہ کے بارے میں ایک مسجد ہے اور اس کے قریب میں ہی ایک بڑا قبرستان ہے اور یہ قبرستان تقریباً بہت پرانا ہے اور اس میں بہت سالوں سے کسی کو دفنایا نہیں جاتا ہے اور مسجد کے سامنے سے ایک روڈ ہے جس میں بڑی بڑی گاڑیاں چلتی ہیں اگر روڈ کو چوڑا کیا جائے تو مسجد کو شہید کر نا پڑیگا۔۔۔۔۔۔۔تو کیا اس مسجد کو قبرستان میں بنا سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور اگر قبروں کے اوپر پیلر کھڑا کر کے پھر اس پر چھت ڈال کر پھر اس کے اوپر مسجد تعمیر کریں تو کیا ایسا کرنا شرعاً جائز ہے۔؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ برائے مہربانی قرآن وحدیث کی روشنی میں مدلل جواب عنایت فرمائیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

        ســــــــــــــــائــــــل

 خاکپاءاولیاء الحاج محمد مستقیم رضا۔۔۔۔ راجگرونگر۔۔۔ پونہ

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

 📚 ✒الجوابـــــ بعون الملک الوھابــــ👇

صورت مسولہ میں جس قبرستان کو مسلمانوں سے مردے دفن کرنے کے لئے چھوڑا ہے اور مسلمان اسے قبرستان اقرار کر کے اس میں مردے دفن کئے ہیں وہ عند الشرع قبرستان ہے تو اس میں مسجد و عید گاہ وغیرہ بنانا جائز نہیں ہے کہ وہ تغیر وقف ہے اور وقف کا بدلنا جائز نہیں ہے
📗فتاوی عالمگیری میں
لایجوز تغییر الوقف عن ھیئتہ
جلد 2 ص 354
اگر چہ وہ قبرستان سینکڑوں سال پرانی ہی کیوں نہ ہو اور کئی سالوں سے لوگوں نے اس میں مردے دفن کرنا بند کر دیے ہوں پھر ہی وہ قبرستان ہی ہے اور تا قیامت قبرستان ہی رہے گا
📗 جیسا کہ فتاوی عالمگیری میں ہے
سئل الامام شمس الآئمة محمود الاوز جندی عن المقبرة اذا اندرست ولم یبقی فیھا اثر الموتی لاالعظم ولاغیرہ ھل یجوز زرعھا واستغالھا فقال لا ولھا حکم المقبرة کذا فی المحیط
جلد 2 ص 470
حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ مسلمانوں کا قبرستان جس میں قبر کے نشانات مٹ چکے ہوں اور اس میں ہڈیوں کا بھی پتہ نہیں جب بھی اسکو کھیت بنانا یا اس میں مکان بنانا جائز نہیں ہے اب بھی وہ قبرستان ہی ہے مسلمانوں پر ضروری ہے قبرستان کے آداب کو بجا لانا
📗 بہارشریعت جلد 10 ص 87

حدیث پاک میں ہے
لاتصلوا علی قبر
📗اور فتاوی عالمگیری میں ہے
ویکرہ ان ینبی علی القبر او یقعد او ینام علیہ او یوطا علیہ
جلد 1 ص 166
لھذا صورت مذکورہ میں تمام حوالہ جات سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہے کہ مسجد کو قبرستان بنانا جائز نہیں ہے اور نا ہی قبرستان کے اوپر پیلر کھڑا کرکے چھت تعمیر کرنا بھی جائز نہیں ہے*
*ہاں اگر وہ وقفی قبرستان نہ ہو بلکہ کسی کے جگہ میں مردے مدفون کئے گئے ہو تو اس کی اجازت سے مدرسہ یا مسجد تعمیر کرسکتے ہیں پلر ڈال کر جبکہ پلر قبر پر نہ ہو.

            واللہ تعالی اعلم باالصواب

{{🖊}} شــــــــرف قــلــــم {{👇}}

حضرت علامہ و مولانا محمد انیس الرحمن حنفی رضوی صاحب قبلہ 

بتاریخ 4 ربیع الثانی1441ھ/ 2 دسمبر 2019ء

 { اســـلامـی معـلــومـات گـــــــروپ }

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے