جو حضور علیہ السلام کو حاضر وناظر نہ مانے اس کے لیے کیا حکم ہے


  اَلسَّــلَامْ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اللہِ وَبَرَڪَاتُہْ

📜ســـــــــوال بـــــرائـــےعـــلماءاکرام👇 
علماء دین شرح متین کی بارگاہ میں سوال عرض ہے.کہ جو شحص نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو حاضر ناضر نہ مانے اس پہ کیا حکم شرح ہوگی..کرم فرماکر جواب جلد سے جلد اتا فرمائے

سائل:👈 صوفى سيد عابد على قادری رضوى 

    وَعَلَیْڪُمْ اَلسَّــلَامْ وَرَحْمَةُ اللہِ وَبَرَڪَاتُہْ

   الجواب۔بعون الملک الوھاب

  جوشخص آیت ڨرآنی واحادیث مبارکہ کا انکارکرے اور حضوراقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو حاضر وناظر نہ مانے وہ کافر ومرتد بیدین وملعون جہنمی ھے ۔
حاضروناظر پر قرآن واحادیث واقوال علماء سے ثابت ھے ۔👇
📖ارشادباری تعالی ؛؛یایھاالنبی اناارسلنٰک شاھدا ومبشرا ونذیرا وداعیا الی الله باذنه وسراجا منیرا پارہ ٢٢ سورہ الاحزاب آیت نمبر ٤٥
اے غیب کی خبریں بتانےوالے بیشک ھم نے تم کو بھیجا حاضروناظر اور خوشخبری دیتا اورڈر سناتا اور الله کی طرف اسکے حکم سے بلاتا اور چمکادینے والا آفتاب
📖حدیث نبوی ۔بخاری شریف کتاب بدءالخلق اور مشکواة شریف جلددوم باب بدءالخلق وذکر الانبیاء میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ھے کہ؛؛
👈📖قام فینا رسول الله ﷺ مقاما فاخبرنا عن بدءالخلق حتٰی دخل اھل الجنة منازلھم واھل النار منازلھم حفظ ذٰلک من حفظه ونسیه من نسیه
حضوراقدس ﷺنے ھم میں ایک جگہ قیام فرمایا پس ھم کو ابتداء پیدائش کی خبر دےدی یہاں تک کہ جنتی لوگ اپنی منزلوں میں پہونچ گۓ اور جہنمی اپنی منزلوں میں ۔ جس نے یاد رکھا اس نے یاد رکھا اور جو بھول گیا وہ بھول گیا 
📚مشکواة شریف باب الفتن میں بخاری شریف ومسلم شریف سے بروایت حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ ھے
 📖؛؛ما ترک شیاءً یکون فی مقامه الٰی یوم القیامة الا حدّث به حفظه ونسیه من نسیه
حضوراقدس ﷺ نے اس جگہ قیامت تک کی کوئ چیز نہ چھوڑی ۔مگر اسکی خبر دے دی ۔جس نے یاد رکھا ؛ یادرکھا جوبھول گیا وہ بھول گیا ۔شرح مواھب لدنیہ للزرقانی میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنھما کی روایت ھے ۔
📖؛؛ ان الله رفع لی الدنیا فاناانظر الیھا والٰی ماھو کائن فیھا الٰی یوم القیامة کانما انظر الی کفّی ھذہ ۔اللہ تعالی نے ھمارے سامنے ساری دنیا کو پیش فرما دیا۔پس ھم اس دنیا کو اور جو اس میں قیامت تک ھونے والاھے اس طرح دیکھ رھے ھیں ۔جیسے اپنے اس ھاتھ کو دیکھتے ھیں ۔تو معلوم ھوا کہ حضوراقدس ﷺتمام عالم کو اور اس میں از اول تا آخر ۔ازازل تا ابد ھونے والے واقعات کو اس طرح ملاحظہ فرمارھے ھیں جیسے کوئ اپنے ھاتھ آئینہ لے کر اس کو دیکھتا ھے اس عالم میں لوح محفوظ وقلم کرسی عرش وفرش جنت دوزخ وغیرہ سب شا مل ھیں ۔عالم میں کوئ ایسی چیز نہیں جو اس چشم حق بین سے مخفی ھو
حاضروناظر کے شرعی معنی یہ ھیں کہ قوت قدسیہ والا ایک ھی جگہ رہ کر تمام عالم کو اپنے کف دست کی طرح دیکھے
اور دور ونزدیک کی آوازیں سنے 
یا ایک آن میں تمام عالم کی سیرکرے ۔اورصدھا کوس (میل)پر تمام حاجتمندوں کی حاجت روائ کرے 
فقہاۓ ائمہ اربعہ ومحدثین ومفسرین ومجتہدین محققین مصنفین کے نزدیک حاضروناظر غیراللہ کے لۓ کہنااورماننا صحیح ھے۔
لھذا جوحاضر وناظر نہ مانے اور آیت قرآنی کا انکار کرے وہ کافر مرتد شیطان ملعون ھے ۔
بحوالہ جاءالحق وزھق الباطل حاضروناظر کی بحث مکمل صفحہ از ١٣٢ تا ١٦٢
👈مطالعہ کریں

وھوسبحانہ تعالی اعلم بالصواب

       *✍ شـــــــــــرف قـــــلـــــــم 👇*
 حضرت علامہ و مولانا ابوالفیضان العبد الحاج محمد عتیق الله صدیقی فیضی یارعلوی ارشدی صاحب قبلہ

        تاریخ قمری 03/04/1441ھ

      تاریخ شمسی 01/12/2019ء

( اســلامـی مــعــلـومــات گــروپ)

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے