شراب کے نشہ میں طلاق ہوگی یا نہیں



   ❂اَلسَّــلَامْ عَلَیْڪُمْ وَرَحْمَةُ اللہِ وَبَرَڪَاتُہْ❂

         (( 🖍 )) الســـــــــوال👇

کیا فرماتے ہیں علماء کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شرابی نے نشے کی حالت میں اپنی بیوی کو طلاق پانچ یا چھ مرتبہ دیا تو کیا طلاق ہوگئی؟ جبکہ بیوی اس طلاق کو نہیں مانتی اور اگر طلاق ہوگئی تو اب بیوی کے لۓ کیا حکم ہے جواب عنایت فرماٸیں حوالہ کے ساتھ بھت مہربانی ہوگی
   
 سائل👈 نصیرالدین مبارک پور ٹانڈہ یوپی 

     ❂وَعَلَیْڪُمْ اَلسَّــلَامْ وَرَحْمَةُ اللہِ وَبَرَڪَاتُہْ❂  

(( 🖍 )) الجـواب بعـون المــلـک الوھـاب👇

صورت مسئولہ میں طلاق مغلظہ واقعی ہوگئی اس کی بیوی اس پر حرام ہوگئی اب بغیرحلالہ کےکوئی چارہ نہیں. جیساکہ سرکار فقیہ ملت علامہ جلال الدین علیہ الرحمہ فرماتےہیں "اگرشوہرنشےکی حالت میں بیوی کوطلاق دےتوطلاق پڑجائےگی
(📗فتاوی عالمگیری جلداول صفحہ 331میں ہیں)
طلاق السکران واقع اذاسکرمن الخمراوالنبیذ ھومذھب اصحابنارحھم اللہ تعالیٰ کذافی المحیط
یعنی اگرکسی نےشراب یانبیذکےنشہ کی حالت میں طلاق دی توہمارےائمہ کرام کےنزدیک طلاق پڑجائےگی ایساہی محیط میں ہے
(📒فتاوی فقیہ ملت جلددوم صفحہ٢)
بیوی کاتسلیم نہ کرنا قابل قبول نہ ہوگا یعنی تسلیم نہ کرے جب بھی شوہر پر لازم ہے کہ اس سے دور رہے اور اگر ایسا نہ کرے تو سارے مسلمان زید کا اور اسکی بیوی کا سماجی بائیکاٹ کریں. اگر کسی نے مجبور کرکے شراب پلایا تو طلاق واقع نہ ہوگی جیسا کہ علامہ صدر الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں "کسی نے مجبور کرکے نشہ پلا دیا یاحالت اضطرار میں پیاسا(مثلا پیاس سے مررہا تھا اور پانی نہ تھا) اور نشہ میں طلاق دےدی تو صحیح یہ ہے کہ طلاق واقع نہ ہوگی
 (📕بہار شریعت ح ٨)

      والـــلـــہ اعـــــــلـــم بـــالصــــواب

✍ از قــلـــم حــضـــرت عـــلامــہ و مـــولانــا محمــــــــد افـســـــر رضـــا حشمتـی سعـدی عفـی عنـــہ صـاحـب قبـلـہ 
    
{ اســـلامـی معـلــومـات گـــــــروپ }

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے