عام مُسلمین کی پکی قبر بنانا کیسا



   ❂اَلسَّــلَامْ عَلَیْڪُمْ وَرَحْمَةُ اللہِ وَبَرَڪَاتُہْ❂

       ✒الســـــــــــــــــوال👇🏽

ایک سوال عرض یہ ہے کہ ہمارے اطراف میں کچھ لوگ اپنے ماں باپ کی قبر کو پہچان کے لیے اینٹ کی دیوار بنواتے ہیں کیا یہ صحیح طریقہ ہے مطلب کیا ایسا کرنا جائز ہے اور شریعت میں اس کا کیا حکم ہے مدلل جواب عنایت فرماکر شکریہ کا موقع دیں کرم ہوگا

         سائل ÷÷ محمد شاہ نواز 

  ❂وَعَلَیْڪُمْ اَلسَّــلَامْ وَرَحْمَةُ اللہِ وَبَرَڪَاتُہْ❂  

         الجواب اللھم ہدایةالحق والصواب 

 پکی قبر سے مراد اندر سے پکی نہ ہو اگر اندر مٹی اور اوپر سے پکی ہے تو جائز ہے مگر عوام کی قبر اس طرح نہ بنائی جائے ورنہ آنے والی نسل ولی کا مزارسمجھ بیٹھی گی البتہ نشان کے طور پر پتھر وغیرہ سرہانے لگاسکتے ہیں جیساکہ سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نےحضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ تعالیٰ عنہ کودفن کرنےکےبعد ان کی قبرپرایک بھاری پتھررکھا اورفرمایااس نشانی سےمیں اپنےبھائی کی قبرکوپہچان لوں گااوراس کےاہل میں سےجوفوت ہوگااس کےقریب رکھوں گا. (ابوداؤدشریف)
اورعلامہ صدرالشریعہ علامہ امجدعلی صاحب علیہ الرحمہ فرماتےہیں اگرضرورت ہوتوقبرپرنشان کیلئےکچھ لکھ سکتےہیں مگرایسی جگہ نہ لکھیں جہاں بےادبی ہوایسےمقبرہ میں دفن کرنابہترہےجہاں صالحین کی قبریں ہو
بہارشریعت حصہ چہارم قبرودفن کابیان
خلاصئہ کلام یہ کہ دیواروغیرہ نہ بنواکےصرف پتھررکھدیاجائےنشانی کےطورپریہی کافی ہےاورزیادہ انسب بھی یہی ہے

        واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

  ( ✒ ) کتبـــــــــــــــــــــــــہ( ✒ )

حــضـــرت عـــلامــہ و مـــولانــا محمــــــــد افـســـــر رضـــا حشمتـی سعـدی عفـی عنـــہ صـاحـب قبـلـہ مـدظلــہ

    ( اســـلامـی معـلــومـات گـــــــروپ )

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے