امام بے وضو ہو جائے تو کیا کریں

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

حضور پوچھنا یہ تھاکہ اگر امام کی ریح خارج ہو جائے نماز پڑھاتے ہوئے تو اس کا کیا حکم ہے براہ کرم جواب عطا فرما دیجئے
                   منجانب تنظیم النور
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
      وعلیکم السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

      الجوابـــــ بعون الملکــــ الوہاب 

نماز پڑھاتے ہوئے اگر امام کا وضو ٹوٹ جائے تو وہ دوسرے کو امامت کے لئے خلیفہ بنا سکتا ہے،اس کا طریقہ یہ ہے کہ امام ناک بند کرکے پیٹھ جھکا کر پیچھے ہٹے اور اشارہ سے کسی کو خلیفہ بنانے میں کسی سے بات نہ کرے، درمختــار میں ہے کہ {استخلف ای جاز لہٗ ذٰلک} اور فتاویٰ عالمگیری جلد اول مصری صفحہ نمبر 89 میں ہے کہ صورۃ الاستخلاف ان یتاخر محدود باواضعا یدہ علی انفہ یوھم انہ قدرعف ویقدم من الصف الذی یلیہ ولا یستخلف باالکلام بل بالاشارۃ-اھ لیکن چونکہ خلیفہ بنانے کا مسئلہ ایک ایسا سخت دشوار مسئلہ ہے جس کے لئے شرائط بہت ہیں اور مختلف صورتوں میں مختلف احکام ہیں جن کی پوری رعایت عام لوگوں سے مشکل ہےاس لئے جو بات افضل ہے اسی پر عمل کریں یعنی وہ نیت توڑ دی جائے اور از سرِ نو نماز پڑھی جائے بلکہ جو لوگ کہ علم کافی رکھتے ہیں اور اس کے شرائط کی رعایت پر قادر ہیں،ان کے لئے بھی از سرِ نو نماز پڑھنا افضل ہے جیساکہ رد المحتار جلد اول صفحہ نمبر 405 میں ہے کہ استینافہ افضل ای بان یعمل عملاً یقطع الصلوٰۃ ثم یشرع بعد الوضوء شُرُنبلا لیہ عن الکافی -اھ(فتاویٰ فیض الرسول جلد اول صفحہ نمبر 343)

               واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

             از قلم: محمد عمران رضا ساغر

               اسلامی معلومات گروپ 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے