کیا شوہر بیوی کے شرمگاہ کو دیکھ اور چھو سکتا ہے



السلام علیکم ورحمتہ اللہ برکاتہ 

کیا فرماتے ہیں علماٸے کرام و مفتیان عظام اس مسئلے کے بارے میں کہ کیا شوھر اپنی بیوی کی شرم گاہ کو دیکھ سکتا ھے اور اپنے ہاتھوں سے اپنی اھلیہ کے زیر ناف کاٹ سکتا ھے اور کس حالت میں 
جواب دیکر شکریہ کا موقع دیں 

سائل محمد سجاد نوری کرناٹک


وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 
الجواب اللھم ھدایۃ الحق الصواب
مرد اپنی بیوی کے ہرعضو کوچھوسکتاہےاورعورت بھی اپنےشوہرکےہرعضوکوچھوسکتی ہےخواہ شہوت سےہویابلاشہوت یہاں تک کہ ہرایک دوسرےکی شرمگاہ کوچھوبھی سکتےہیں مگربغیرضرورت کےشرمگاہ کادیکھنااورچھوناخلاف اولیٰ ومکروہ ہے

فتاوی عالمگیری جلد5صفحہ نمبر227

بہارشریعت حصہ 16صفحہ نمبر57

دوران صحبت مردوعورت نےایک دوسرےکی شرمگاہ کی طرف نہیں دیکھناچاہئے

           اس کےبہت سےنقصانات ہیں

ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہافرماتی ہیں 
کہ حضوراکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کاوصال ہوگیالیکن نہ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کبھی میراستردیکھااورنہ میں نےکبھی حضوراکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کاستردیکھا

ابن ماجہ شریف جلداول باب نمبر616صفحہ نمبر538

حضرت ابن عدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےروایت کرتےہیں کہ حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نےارشاد فرمایا

تم میں سےکوئی جب اپنی بیوی سےمباشرت کرےتواس کی فرج (شرمگاہ) کونہ دیکھےکہ اس سےآنکھوں کی بینائی ختم ہوجاتی ہے

حاشیہ مسندامام اعظم صفحہ 225

ھکذافی فتاوی رضویہ شریف جلدپنچم صفحہ 570


قرینہ زندگی صفحہ 105

جب مردوعورت ایک دوسرےکی شرمگاہ کوچھوسکتےتومردعورت کےموئےزیرناف بھی صاف کرسکتاہےلیکن مردکو زیبہ نہیں دیتاکہ وہ عورت کےموئےزیرناف صاف کرےہاں اگرکوئی مجبوری ہےکہ عورت صاف نہیں کرپارہی ہے تومردصاف کردے


واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

محمدافسررضاحشمتی سعدی عفی عنہ
     
     اسلامی معلومات گروپ 

ایک تبصرہ شائع کریں

2 تبصرے

  1. السلامُ علیکم جی یے بتائیے کہ اپنی فوفی۔ سے شادی کر سکتا ہے يا نہیں سگی نہیں مطلب یہ کی جو آپ کے والد صاحب ہے اُن کے چچا کی لڑکی کے ساتھ

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. ماشاءاللہ بہت خوبصورت جواب دیا ہے آپ نے۔
      اللہ تعالیٰ مزید بلندیاں نصیب فرماۓ آمین

      حذف کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ