ناک کی نوک لگاکر اٹھانے سے سجدہ ہوگا یا نہیں



             اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎

کیا فرماتے ہیں علماٸے کرام و مفتیان کرام اس مسٸلہ ذیل کے بارٸے میں کہ حالت سجدہ میں ناک زمین سے لگاکر پھر اٹھالیا تو نماز ہوگی یا نہیں جواب عنایت فرماکر شکریہ کا موقع عنایت کریں

الساٸل۔محـــمد قمـــرالدین قـــادری بمقام گیناپور ضلــــــع بہراٸچ شـــــــریف یوپی
۔......................................................
               وعلیکم السلام ورحمت اللہ وبرکاتہ 

*الجواب* ناک کی نوک لگا کر اٹھا نے سے سجدہ نہ ہوگا کیونکہ سجدہ فرض ہے اور سجدہ اسی وقت ہوگا جبکہ ایک بار سبحان اللہ کہنے کی مقدار تک پیشانی وناک کی نرم ہڈی زمین پر لگنا ضروری ہے جیسا کہ علامہ صدر الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ پیشانی کا زمین پر جم جانا سجدہ کی حقیقت ہے اور اسکے ساتھ میں ناک کی ہڈی کا زمین پر دبانا واجب ہے تو اگر حالت سجدہ میں پیشانی تو لگی مگر ناک بالکل نہ لگی یا لگی تو مگر ناک ہڈی تک نہ دبی تو نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہوگی( بہار الشریعہ جلد اول حصہ سوم صفحہ 71)(فتاوی فیض الرسول جلد اول صفحہ 251)
ہاں کوئی مجبوری ہو کہ پیشانی مکمل نہیں لگا سکتا ہے جب بھی ناک کی نرم ہڈی کا لگانا ضروری ہے حیسا کہ حضور صدر الشریعہ بدرالطریقہ حضرت علامہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رضوی علیہ الرحمۃ تحریر فرماتے ہیں کہ اگر کسی عذر کے سبب پیشانی زمین پر نہیں لگا سکتا تو صرف ناک سے سجدہ کرے پھر بھی فقط ناک کی نوک لگانا کافی نہیں بلکہ ناک کی ہڈی زمین پر لگنا ضروری ہے 
(بحوالہ بہار شریعت جلد اول حصہ سوم صفحہ 513 نماز پڑھنے کا طریقہ مکتبہ دعوت اسلامی )




                    واللہ اعلم باالصواب 

                   محمد ریحان رضا رضوی 

                اســـلامی مـــعلــومـات گـــــروپ 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے