شرعی مسافر گھر سے مانا جائیگا یا آبادی سے نکلنے کے بعد


        السلام علیکم و رحمۃ اللہ تعالیٰ و برکاتہ

 کیا فرماتے ہیں علماء کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مسافر کی اپنے اصلی وطن سے کتنی دور چلا جائے تو مسافر ٹھہرے گا اور اسکے کیا کیا شرائط ہیں برائے مہربانی مکمل طور پر جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی فقط والسلام 

               سائل.. محمد شاکر رضوی
::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::
            وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ

                 الجواب بعون الملک الوھاب

جو شخص تین دن کی راہ تک جانے کے ارادے سے بستی سے باہر ہوا اس کو شریعت میں مسافرکہتےہیں دن سے مراد سال کا سب میں چھوٹا دن ہے اور " تین دن کی راہ " سے یہ مراد نہیں کہ صبح سے شام تک چلےکیونکہ کھانے پینے نماز اور دیگر ضروریات کے لئے ٹھہرنا ضروری ہےبلکہ مراد دن کا اکثر حصہ ہے مثلاً شروع صج صادق سے دوپہر ڈھلنے تک چلا ٹہر گیا پھر دوسرے دن اور تیسرے دن یونہی کیا تو اتنی دور تک کی راہ کو مسافت کہتے ہیں اور چلنے سے مراد معتدل چال ہے کہ نہ تیز ہو نہ سست خشکی میں آدمی اور اونٹ کی درمیانی چال کا اعتبار ہے اور پہاڑی راستے میں اسی حساب سے جو اس کے لئےمناسب ہو اور دریا میں کشتی کی چال اس وقت کی ہوا بالکل رکی ہو نہ کہ بالکل تیز " تین دن کی راہ " کو تیزسواری پر دو دن یا کم میں طے کرے تو مسافر ہی ہے اور تین دن سے کم کے راستے کو زیادہ دنوں میں طے کیا تو مسافر نہیں ہےچند مسائل(1) محض نیت سفر سے مسافر نہ ہوگا بلکہ مسافر کا حکم اس وقت سے ہے کہ بستی سے باہر ہو جائے شہر میں ہے تو شہر سے اور گاؤں میں ہے تو گاؤں سے اور شہر والے کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ شہر کے آس پاس جو آبادی سے متصل ہو اس سے بھی باہر ہوجا ئے(2) اسٹیشن جہاں آباد ی سے باہر ہوں تو اسٹیشن پر پہنچنے سے مسافر ہوجائے گا جب کہ مسافت سفر تک جانے کا ارادہ ہو(3) مسافر پر واجب ہے کہ نماز میں قصر کرے یعنی چار رکعت والے فرض کو دو پڑھے اس کے حق میں دو رکعتیں پوری نماز ہے( نظام شریعت صفحہ نمبر 266 سے 267 تک )

                     واللہ اعلم تعالیٰ بالصواب

      کتبہ ابـوالاحـسان محمد مشتاق احمد قادری رضوی

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے