3.20.2020

حالت سجدہ میں دعا مانگنا از روئے شرع کیســـاھے


              السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

مسئلہ:-کیا فرماتے ہیں علماٸے کرام و مفتیان کرام اس مسٸلہ کے بارے میں کہ سجدے کی حالت میں دعا کرنا از روئے شرع کیسا ہے؟ مدلل جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی 
                     الســــاٸل محمد انور رضا
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
              وعلیکم السلام و رحمۃاللہ و برکاتہ

الجواب :سوال جب بھی کریں خلاصہ کریں آپ کے سوال سے واضح نہیں ہے کہ کس چیز کا سجدہ اگر سجدہ سے مراد نماز فرض کا سجدہ ہے تو اس میں دعا کرنا منع ہے ہاں نماز نفل میں وہ دعائیں پڑھ سکتے ہیں جو احادیث طیبہ میں ہے جیسا کہ علامہ صد الشریعہ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں، یہ جو کہا گیا کہ سجدۂ تلاوت میں سبحن ربی الاعلی پڑھے یہ فرض نماز میں ہے اور نفل نماز میں سجدہ کیا تو چاہے یہ پڑھے یا اور دعائیں جو احادیث میں وارد ہیں وہ پڑھے۔ مثلا سجد وجھی للذی خلقہٗ وصورہٗ وشق سمعہٗ وبصرہٗ بحولہ وقوتہ فتبارک اللہ احسن الخالقین.ترجمہ: میرے چہرے نے سجدہ کیا اوس کے ليے جس نے اسے پیدا کیا اور اس کی صورت بنائی اور اپنی طاقت وقوت سے کان اور آنکھ کی جگہ پھاڑی برکت والا ہے اللہ (عزوجل) ! جو اچھا پیدا کرنے والا ہے۔یا یہ پڑھےاللھم اکتب لی عندک بھا اجرا و ضع عنی بھا وزرا واجعلھا لی عندک زخرا و تقبلھا منی کما تقبلتھا من عبدک داوٗدترجمہ: اے اللہ (عزوجل)! اس سجدہ کی وجہ سے تو میرے ليے اپنے نزدیک ثواب لکھ اور اس کی وجہ سے مجھ سے گناہ کو دور کر اور اسے تو میرے ليے اپنے پاس ذخیرہ بنا اور اس کو تو مجھ سے قبول کر جیسا تو نے اپنے بندے داود علیہ السلام سے قبول کیا۔ یا يہ پڑھےسبحن ربنا ان کان وعد ربنا لمفعولا ترجمہ: پاک ہے ہمارا رب، بے شک ہمارے پروردگار کا وعدہ ہو کر رہے گا۔اور نماز کا سجدہ نہیں بلکہ بیرون نماز ہے مثلا سجدہ شکر ہے، سجدہ تلاوت، تو جو چاہے پڑھے کوئی حرج نہیں جیسا کہ علامہ صدرالشریعہ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں، اور اگر بیرون نماز ہو تو چاہے یہ پڑھے یا صحابہ و تابعین سے جو آثار مروی ہیں وہ پڑھے، مثلا ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے تھے اللھم لک سجد سوادی ربک امن فؤادی اللھم ارزقنی علما ینفعنی وعملا یرفعنی .ترجمہ: اے اللہ (عزوجل) ! میرے جسم نے تجھے سجدہ کیا اور میرا دل تجھ پر ایمان لایا۔ اے اللہ! تو مجھ کو علم نافع اور عمل رافع روزی کر ۔ (بہار شریعت ح چہارم سجدہ تلاوت کا بیان) مگر یاد رہے کہ مکروہ اوقات میں نہ ہو کیونکہ ان اوقات میں منع ہے جیسا کہ علامہ صدرالشریعہ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں، طلوع و غروب و نصف النہار ان تینوں وقتوں میں کوئی نماز جائز نہیں نہ فرض نہ واجب نہ نفل نہ ادا نہ قضا، یوہیں سجدۂ تلاوت و سجدۂ سہو بھی ناجائز ہے، البتہ اس روز اگر عصر کی نماز نہیں پڑھی تو اگرچہ آفتاب ڈوبتا ہو پڑھ لے ،مگر اتنی تاخیر کرنا حرام ہے. یونہی نماز عصر اور نماز فجر کے بعد نفلی سجدہ منع ہے کہ ان اوقات میں کوئی نفل نماز ونفلی سجدہ جائز نہیں.

                        واللہ اعلم بالصواب

کتبہ فقیر تاج محمد حنفی قادری واحدی ارشدی اترولوی

                اســـلامی مـــعلــومـات گـــــروپ 

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ

Whatsapp Button works on Mobile Device only